معرفت کی منازل

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 70

‏ایک بزرگ تھے جب بھی ان پر کوئی مصیبت آتی تو یہ کہتے
مالكٌ يتصرف في أملاكه حكيمٌ لا يفعل شيئًا عبثًا
مالک اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے
حکیم کوئی کام فضول نہیں کرتا
الله الله
یعنی میرا جسم و میری جان و مال و اولاد سب اللہ کا ہے تو وہ جیسے چاہے ان سے سلوک کرے
اور وہ تو حکم مطلق ہے میرے جسم و جاں میں کوئی مصیبت ڈالتا ہے تو یقیناً کوئی حکمت ہے
کیونکہ حکیم کا ہر کام حکمت سے بھر پور ہوتا ہے
جو بندہ خود پر آنے والے مصائب میں الله رب العزت کی حکمتیں تلاش کرتا ہے اور زیادہ تلاش کرتا ہے وہ عارف کامل بن جاتا ہے
یعنی ایک بندہ ایک حکمت تلاش کرتا ہے دوسرا اسی مصیبت پر چار حکمتیں تلاش کر لیتا ہے وہ زیادہ عارف ہے
یہی نکتہ ہے جسے جلد سمجھ آ جائے وہ معرفت کی منازل تیزی سے طے کرتا ہے

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top