عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 44
كلاهما الضوء والظل هم رقصة الحب
روشنی اور سایہ دونوں محبت کا رقص کرتے ہیں
❗الرومي ❗
!کبھی روشنی آتی کبھی سایہ آتا ہے تو اس آنے جانے کو گھٹنے بڑھنے کو رقصِ محبت سے تعبیر فرمایا ہے
کائنات کی ہر شے رقصِ محبت فرماتی ہے تمہیں ادارک ہو یا نہ ہو
جنید بغدادی سے پوچھا گیا یہ درویش وجد میں رقص کر رہے ہیں جبکہ آپ ساکن بیٹھے ہیں
فرمایا
افلاک گردش میں ہیں مگر ساکن نظر آتے ہیں
یعنی ہم بھی وجد میں ہی مگر ہمارے وجد کا نظارہ آنکھ والا دیکھ سکتا ہے
جیسے آپ پنکھے کو دیکھتے ہیں نہایت تیز رفتاری کی وجہ سے پر گویا ساکن نظر آتے ہیں
اسی طرح کائنات کی ہر شے رقصِ محبت میں محو ہے
سب کا مطلب و مقصود و محبوب بس وہی وحدہ لاشریک ہے
قمری اسی کو تلاش کرتی ہے
چکور اسی کی جستجو میں ہے
بلبل اسی کے نغمے گاتا ہے
کوئل اسی کے غم میں روتی ہے
وہی محبوبِ حقیقی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
