عشق حق ہے

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 25

مَنْ لا يركض إلى فتنة العشق يمشي طريقاً لا شيء فيه حي

جو عشق کے امتحان کی طرف اٹھ کر نہیں جاتا وہ ایسے راستے پر چل رہا ہے جس میں کوئی زندہ نہیں ہے
❗ جلال الدين الرومي ❗

یعنی سوائے عشق کے راستے کے تمام راستے مردوں کے راستے ہیں
عشق کرنا مَردوں کا کام ہے مُردے عشق سے دور بلکہ عشق خود سے مُردوں کو دور رکھتا ہے
عشق کی سیڑھی چڑھی جائے مرد ہو تو جنید و بایزید و منصور و رومی و جامی و ابن فارض بنتا ہے عورت ہو تو رابعہ عدویہ و میمونہ و نفیسہ بن جاتی ہیں
جنس مخالف کا عشق تو جانورں کا کام ہے
عشق حق ہے مگر حق سے حق کے ساتھ حق کی پناہ میں حق کی رضا سے ہی عشقِ حق ہے
اس کے سوائے خواہش نفسانی کے کچھ نہیں
✍️ سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top