پیا کو جو میں نہ دیکھوں, تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں؟

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 24

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی ؛ پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں؟

جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
اے دوست! محبوب کو دیکھے بغیر یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں
° عشق کی کوئی زبان نہیں ہوتی ہاں آنکھیں عشق کی زبان بولتی سمجھتی ہیں °
کیونکہ عشق میں آنکھ آنکھ کی بات سمجھتی ہیں دل دل کی آواز سن لیتا ہے

یہ مولانا جامی کی فارسی میں تنم فرسودہ ہو یا امیر خسرو کی فارسی مع سنسکرت جو کہ اردو کی پہلی غزل کہی جاتی ہے وہ ہو سن کر بغیر سمجھے لطف آتا ہے

اے فناء عشق کا دستور تجھے کیا معلوم
عشق میں دل ہی نہیں سر بھی دیئے جاتے ہیں
اس کی بارگاہ تک رسائی کا رستہ شب بیداری ہے
جہاں راتوں کو جاگیں آنکھیں لال کریں اور صبح کو مسکراتے نظر آئیں
✍️ سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top