اسلامی_طرزِ_تربیت 253
محمد بن واسع بڑی عجیب و لطیف بات ارشاد فرماتے ہیں
ينبغي للرجل أن يكون مع المرأة كما يكون أهل المجنون مع المجنون يحتملون منه كل أذى ومكروه
آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ یوں رہنا چاہئیے جیسے پاگل کے گھر والے پاگل کے ساتھ رہتے ہیں
وہ پاگل کی ہر اذیت و ناپسند شے پر صبر کرتے ہیں
« الإمتاع والمؤانسة ص ٢٤٢ »
میاں بیوی کا رشتہ ایسا عجیب رشتہ ہے کہ دو متضاد طبعیتوں کے افراد ایک ساتھ رہتے ہیں
عورت میں جلد بازی اور ناشکری زیادہ ہوتی ہے جبکہ مرد ایسا نہیں ہوتا
مرد اصل میں وہی مرد ہے جو عورت کی جلد بازی و ناشکری پر صبر کرے
عورت کسی بھی طبقے سے ہو
کسی بھی منصب پر ہو
کسی بھی علمی و ادبی مقام پر فائز ہو پھر بھی عورت ہی ہے
أبو جعفر أحمد بن نصر فرماتے ہیں
میں نے ایک خاتون سے شادی کی جو قرآن کریم کی حافظہ تھی مؤطا امام مالک کی حافظہ بھی تھی
اس کا ایک بیٹا فوت ہوگیا جسے درندے کھا گئے تھے جب اس الله کی بندی کو خبر دی گئی تو اس نے وضوء کیا اور بیٹھ کر تلاوت شروع کر دی نہ گھبرائی نہ رونا دھونا کیا کہ غم کا اظہار کیا
ان سب کے باوجود میرے اس کے ساتھ تین دن سکون سے نہیں گزرے
« رياض النفوس في طبقات علماء القيروان وإفريقية ج ٢ ص ١٨٦ »
امام شعرانی نے لطائف المنن میں ایسے کئی اولیاء کرام کے واقعات لکھے کہ جن کی بیویاں ان کو اذیت دیتی تھیں بلکہ بعض کی تو زبان کے ساتھ ہاتھ سے تکلیف پہنچاتی تھی
ایک ولی اپنی بیوی کے ساتھ حج پر گئے بیوی صاحبہ نے آتے جاتے ان سے بات ہی نہیں کی تھی
ایک بزرگ فرماتے ہیں
مجھے جو مقامِ ولایت ملا ہے اپنی بیوی کی بدکلامی پر صبر کرنے کی وجہ سے ملا ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ
مؤمن مرد مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے اگر بیوی کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسری سف راضی ہو جاتا ہے
❗ مسلم شریف ❗
یہی شانِ مومن ہے
بشریت کے تقاضے کے تحت مرد و زن بری عادتوں میں مبتلاء ہوتے ہیں مگر کامل وہی ہے جو کامل پر نگاہ رکھے ناقص کو صرفِ نظر کر دے
اس گھر میں ہمیشہ لڑائی جھگڑا ہوتا ہے جس میں ہمیشہ منفی تبصرے اور برائیاں بیان ہوتی ہیں
عورت کا کام ہی الٹی حرکتیں کرنا ہے مگر آپ مرد کس کھاتے کے ہیں جو برداشت نہ کر سکیں
مَردوں کی منافقانہ سوچ ہے کہ ایک طرف عورت کو ناقص العقل مانتے ہیں تو دوسری طرف اس سے کامل العقل والے کام لینا چاہتے ہیں
جب آپ کو پتا ہے بیچاری کا آپ جیسا ذہن نہیں ہے تو گھر میں کیوں فتنہ و فساد کرتے ہیں ؟
کیوں معاف نہیں کرتے ؟
کیوں برداشت نہیں کرتے ؟
کیوں اس کی ناقص حرکات کو نہیں سہتے؟
بیوی آپ کا دھوبی ہے
آپ کا خانساماں ہے
آپ کی صفائی کرنے والا ملازم ہے
آپ کے بچوں اور گھر کا محافظ ہے
آپ کے ذہنی سکون کا سبب ہے
سب سے بڑھ کر آپ کے ایمان کا محافظ ہے
پھر بھی آپ اس کی حماقتوں کو درگزر نہ کر سکیں تو آپ ناقص العقل نہیں ہیں؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
