یاروں کے فائدے

اسلامی_طرزِ_تربیت 254

سیدی عبد الله بن مسعود اپنے دوستوں کو فرماتے تھے
أَنْتُمْ جَلَاءُ حُزْنِي
تم میرے غم کی دوا ہو
« الظرف والظرفاء ص ٢٦ »

ابن عائشة نے فرمایا
مجالسة الإخوان مسلاة للأحزان
دوستوں کے ساتھ بیٹھنا غموں کے لیئے تسلی کا سامان ہے
« اللطائف والظرائف ص ١٤٤ »

ابن عائشة فرماتے ہیں
لقاء الخليل شفاء الغليل
دوست سے ملاقات دل کی بے قراری کی شفاء ہے
سلیمان بن وھب نے کہا
غزل المحبة أرق من غزل الصبابة والنفس بالصديق آنس منها بالعشيق
محبت میں پیار بھری باتیں عشق میں پیار بھری باتوں سے زیادہ لطیف شے ہے اور دوست سے انسیت معشوق سے انسیت سے زیادہ مزے والی شے ہے
« من غاب عنه المطرب لابی منصور الثعالبی ص ١٠٣ »
ایک دیہاتی سے پوچھا گیا
دنیا کی سب زیادہ مزے کی لذت کونسی ہے
کہنے لگا
ممازحة الحبيب ومحادثة الصديق
محبوب سے مزاح کرنا اور دوست سے باتیں کرنا
« شرح مقامات الحريري لأبی العباس الشريشي ج ٣ ص ٢٧٠ »

عقلاء کا اس پر اجماع ہے کہ بہترین دوست دنیا کی اعلی ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے
وہ جو سامنے آئے تو آپ کے غم مٹا دے اور پیٹھ پیچھے آپ کی شان بڑھا دے
دل کا اطمینان محبوب کے ساتھ مطمئن ہونے سے زیادہ دوست کی معیت میں ہوتا ہے
دوست وہی ہے جو دینی و دنیاوی معاملات اور دنیا و آخرت میں ساتھ دے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top