ابابیل, عشق اور انسان

الحب_و_العشق 52

علامہ کمال الدین دمیری نے حیات الحیوان میں لکھا

سیدنا سلیمان علی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام ایک بار دربار میں تشریف فرما تھے کہ محل کے سب سے بلند مینار پر موجود نر ابابیل کو مادہ ابابیل سے یہ کہتے ہوئے سنا

اگر تم کہو تو میں یہ منارہ درباریوں پر گرا دوں

سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان کو گرفتار کیا جائے
جب وہ دونوں درباری نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا تم میرے محل کا مینار گرانے کی بات کر رہے تھے اتنی ہمت کہاں سے آئی تم میں؟

نر ابابیل کہنے لگا
حضور میں ایک عاشق ہوں اور عشاق کی باتیں قابل مواخذہ (پکڑ) نہیں ہوتی

سلیمان علیہ السلام مسکرانے لگے اور فرمایا جاؤ تم آزاد ہو

دوسری روایت
حیاة الحیوان میں ہے
سیدنا سلیمان علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام اپنے صحابہ کے ساتھ ایک جگہ سے گذرے وہاں ایک چڑا چڑیا کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا
فرمایا جانتے ہو یہ چڑیا کو کیا کہ رہا ہے؟
عرض کی گئی ہم نہیں جانتے
فرمایا یہ چڑیا کو نکاح کا پیغام دے رہا ہے اور کہ رہا ہے
تم مجھ سے شادی کر لو تو میں تمہیں دمشق کے محلات میں جس جگہ کہو وہاں گھونسلہ بنا دوں گا
سیدنا سلیمان علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
دمشق کے محلات تو چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں
ان میں کوئی پرندہ رہائش اختیار نہیں کر سکتا
پھر فرمایا
ولكن كل خاطب كاذب

لیکن بات یہ ہے کہ ہر نکاح کا پیغام دینے والا جھوٹا ہوتا ہے

یعنی اکثر طور پر نکاح کے پیغام میں جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے
بندہ جو ہوتا ہے وہ دکھاتا نہیں اور جو دکھاتا ہے وہ اصل میں ہوتا نہیں ہے
پرندوں میں مکاری کم ہوتی ہے جبکہ انسانوں میں زیادہ ہوتی ہے
جب پرندے نکاح کے لیئے جھوٹ بول رہے ہیں تو انسان کتنا بولتے ہوں گے یہ سب بخوبی جانتے ہیں!
زیر نظر ویڈیو میں بھی شاید نر مادہ کو سچ جھوٹ کی آمیزش سے پیغامِ نکاح دے رہا ہے

اللہ رب العزت نے کائنات میں ہر جگہ جوڑا رکھا ھے اور ان کی بقاء کے لیئے محبت رکھی جو دونوں کو جوڑ کے رکھتی ہے ورنہ کائنات کا نظام تباہ و برباد ہو جائے

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں محبت رکھی ہے اسی وجہ سے انسان کو انسان کہتے ہیں کہ یہ اُنس یعنی محبت سے بنا ہے
تو جو انسان محبت بھاگتا ھے وہ فطرت سے بھاگ رہا ہوتا ھے

اللہ تعالیٰ فرماتا ھے
وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ
اور ہر شے کو ھم نے جوڑا جوڑا پیدا کیا

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں

پہلی
جوڑا جوڑا یوں کہ ہر شے کے مقابل ایک چیز پیدا کی جیسے ہدایت کے مقابلے میں گمراہی رات کے مقابلے دن سردی کے سامنے گرمی وغیرہ

اس لحاظ سے اگر نفرت کا وجود ھے تو محبت کا وجود لازمی ہوگا

دوسری
تفسیر یہ ہے کہ
ہر شے کے لیئے اس کی مثل ایک شے پیدا کی ھے

اس لحاظ سے معنی ہوگا کہ ایک کے سکون کے لیئے اسی کی جنس سے دوسری شے پیدا کی ھے جس سے مل کر وہ دونوں خوش ہوتے اور ان سے مزید نسل کا سلسلہ جاری ہوتا ھے اور یہی تو عشق کا معنی و مطلب ھے
لہذا لفظ انسان کا معنی انسیت و الفت اور فطرتِ انسانی کی بقاء باھم و محبت و عشق ہی ہے
محبت سے فرار ہونے والا انسان کی معنویت اور حقیقت و اصلیت کا انکار کرتا ھے

یقینِ محکم عملِ پیہم محبت فاتحِ عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مَردوں کی شمشیریں

#سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top