جو دل پر لازم ہو یا ذات پر لازم ہو

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 32

الغُرْم کا معنی کسی شے کا لازم ہونا ہے
اور اسی سے لفظِ غَرام کا استعمال مختلف معنوں میں ہوتا ہے
لغت کی مشہور کتاب الصحاح میں ہے
غرام کا معنی دائمی شر اور عذاب ہے
قرآن کریم میں ہے
إنَّ عَذَابَهَا كانَ غَرَاماً
بے شک اس کا عذاب گلے کا پھندہ ہے
یعنی دور نہیں ہوگا
لسان العرب میں ہے
والعشق وما لا يستطاع أَن يُتَفَصَّى منه
غرام ایسا عشق جو برداشت نہ ہو سکے اور اس کے خلاصی بھی نہ ہو
جب کوئی مرد کسی سے شدید محبت کرے تو کہتا ہے وإني بك لَمُغْرَمٌ میں تیرا دیوانہ ہوں

الغَرَامة مالی جرمانے کو کہتے ہیں کیونکہ یہ بندے پر لازم کیا جاتا ہے
❗ جرمانہ تعزیر بالمال ہے یعنی مال لیکر سزا دینا ہے جو کہ حرام ہے پہلی شریعتوں میں یہ جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ ہے
اسی وجہ سے تعلیمی اداروں میں یا کاروباری لین دین میں تاخیر کے سبب اضافی مال دینا حرام ہے اور ایسا معاہدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے

اسی لفظِ الغرم سے غارم نکلا یہ قرضدار کو کہتے ہیں کیونکہ اس پر مال لازم ہو جاتا ہے
الغرض لفظِ الغرم میں لزوم کا معنی ہوتا ہے خواہ دل پر عشق لازم ہو یا ذات پر مال لازم ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top