عجائباتِ_عالم 61
عربی میں عملاق بڑے قد کاٹھ والے کو کہتے ہیں
یہ قومِ عمالقہ سے ماخوذ ہے
یہ ایک قوم تھی جو وجود رکھتی تھی
اوائل انسانوں کے قد نہایت بڑے بڑے تھے
تاریخِ طبری میں ہے
خطوه مسيرة ثلاثة أيام وإن كان رأسه ليبلغ السماءَ فاشتكت الملائكة نَفسَه فهمزه الرحمن همزةً
سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام ایک قدم اٹھاتے تھے تو تین دن کی مسافت طے فرما لیتے تھے اُن کا سر مبارک آسمان کو لگتا تھا فرشتوں نے الله رب العزت کی بارگاہ میں شکایت کی تو آدم علیہ السلام کا قد چھوٹا فرما دیا
مسند احمد بن حنبل میں حدیث پاک ہے
كان طول آدم ستين ذراعا في سبعة أذرع عرضا فلم يزل الخلق ينقص حتى الآن
آدم علیہ السلام کا قد مبارک ساٹھ گز تھا اور چوڑائی میں سات گز تھا تو اب تک مخلوق کے قد کم ہوتے رہے ہیں
مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے
كُلُّ مَن يَدْخُلُ الجَنَّةَ علَى صُورَةِ آدَمَ وطُولُهُ سِتُّونَ ذِراعًا
ہر وہ آدمی جو جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر داخل ہوگا اس کا قد ساٹھ گز ہوگا
جنتی مَرد کا قد ساٹھ گز اور عورت کا قد چالیس گز ہوگا
شروع کے انسانوں کے قد بڑے بڑے تھے
پھر قد چھوٹے ہونے لگے اور کچھ لوگوں کے قد بڑے رہے
ایک خاص قوم تو بڑے قد سے مشہور رہی جسے عمالقہ کہتے ہیں
عجم میں لمبے قد والی قوم کو دیو قامت کہتے ہیں
بچپن میں سب نے اس متعلق کہانیاں سنی ہوتی ہیں
قومِ عاد کے قد بڑے بڑے تھے آج بھی ان کے ویران شہر دیکھ کر تعجب ہوتا ہے
سومری، یونانی، فارسی، رومی کہانیوں میں دیو قامت قوموں کا ذکر ہے
شاید یہ سب یاجوج و ماجوج اور قومِ عمالقہ کا اپنے اپنے انداز میں ذکر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے
مصری معابد میں نقش دیکھے جائیں تو ایسے بھی ملتے ہیں کہ انسانوں کے قد ہاتھیوں سے بڑے ہیں
قدیم مخطوطات دیکھیں تو بہت طویل درخت بھی ملتے ہیں
اگر انسانوں اور حیوانوں میں ارتقاء ہوا ہے تو وہ کمی کی جانب ہوا ہے یعنی قد کم ہوا عمر کم ہوئی ہے
اممِ سابقہ کی حقیقتیں جدید انسان سے بہت زیادہ چھپی ہوئی ہیں
اُن کے قد سے لیکر علم پھر ان کی تعمیرات اور اُن کے وضع کیئے ہوئے علوم و زبانوں پھر غور کیا جائے تو جدید انسان بے ساختہ پکار اٹھتا ہے وہ عقل میں ہم سے زیادہ تھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
