الحب_و_العشق 26
°°° رزق کے بارے ایک بڑی غلط فہمی °°°
ایک آدمی کنویں میں گر گیا لوگوں نے مل جل کر باہر نکالا گرنے والا گھبرا گیا تھا
کنویں سے نکالتے ہیں کسی نے اس کو دودھ کا پیالہ پیش کیا
اس نے دودھ پیا اور اچانک پھر اس کا پاؤں پھسلا وہ دوبارہ کنویں میں جا گرا مگر اس بار زندہ نہ نکل سکا
وہاں موجود ایک حکیم شخص نے کہا کہ ° اس کے حصے کے رزق میں سے ایک پیالہ دودھ کا باقی رہ گیا تھا جسے پینے کے بعد دوبارہ کنویں میں گر کر مر گیا °
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے
اگر تم رزق سے بھاگنے کے لیئے ہوا پر سوار ہو کر اڑ جاؤ تو تمہارے حصے کا رزق بجلی پر سوار ہو کر تمہیں پکڑ لے گا
یعنی جو رزق نصیب میں انسان کر وہ مل کر ہی رہے گا
رزق کیا ہے؟
عموما لوگ رزق صرف کھانے پینے کو سمجھتے ہیں جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے
لسان العرب میں علامہ ابن منظور نے لکھا
الرزق هو ما تقوم به حياة كل كائن حي مادي كان أو معنوي
رزق ہر وہ شے جس سے ہر زندہ شخص کی زندگی کی بقاء ہو وہ چیز مادی ہو یا معنوی ہو
معلوم ہوا کہ رزق کی دو قسمیں ہیں
(1) مادی رزق
جو دیکھنے چھونے سننے میں آتا ہو
یا یوں کہ لیں جو دنیا میں انسان کو کسی طرح بھی فائدہ پہنچائے جیسے کھانا، پینا کپڑے،گاڑی گھر،اولاد حسن و جمال، وغیرہ
(2) معنوی رزق
جو دیکھنے چھونے سے معلوم نہ ہو
جیسے علم و عمل،ایمان و یقین،عقل و جذبات،عشق محبت وغیرہ
اعلام الموقعین میں ابن قیم نے لکھا
سچ بولنے والے کو اللہ رب العزت ھیبت و وقار کا رزق عطاء فرماتا ہے
جو اس سچے کو دیکھتا ہے مرعوب ہوجاتا ہے اس کے آگے دب جاتا ہے
اور جھوٹے انسان کو اھانت و بغض کا رزق ملتا ہے
جو اسے دیکھتا ہے اسکی توہین کرتا ہے اور نفرت کرتا ہے
°°° معلوم ہوا کہ عزت و ھیبت و وقار بھی رزق ہے اور ذلت و اھانت و نفرت بھی رزق ہے °°°
کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ
کیا وجہ ہے بہت سے احمق مالدار ہیں اور اکثر عقلمند غریب و فقیر ہیں؟
فرمایا
عقل رزق ہی تو ہے
یعنی جس کو عقل ملی اس کو رزق کا بڑا حصہ نصیب ہوا
“مالدار کو مادی و حسی رزق ملا اور عقلمند کو معنوی و روحانی رزق ملا ہے”
بالکل اسی طرح عشق و محبت بھی رزق ہے
کسی کو کم ملتا ہے کسی کو زیادہ نصیب ہوتا ہے
رزق انسان کے حصے میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کو ملنا ہے یا نہیں
اب انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس تقسیم شدہ رزق کو حلال طریقے سے حاصل کرے یا حرام طریقے سے حاصل کرے
یونہی محبت رزق ہی تو ہے
اور اگر آپ کے مقدر میں لکھی ہوئی ہے تو آپ پر منحصر ہے کہ
آپ اس کو جائز طریقے سے حاصل کریں یا ناجائز طریقے سے حاصل کریں
علم والے اگر محبت میں پڑتے ہیں تو علم کی برکات سے سے ناجائز کاموں میں نہیں پڑتے اور محبت کو حلال طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
جبکہ جاہل گناہوں میں بھی پڑتے اور ناجائز ذرائع بھی اختیار کرتے ہیں
قل ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون
فرما دیں کہ کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں
علم والوں اور جہل والوں کے ہر کام میں امتیازیت ہوتی ہے
••• یہی وجہ ہے آپ علماء کو دیکھیں گے کہ عشق میں پڑنے کے باوجود مجنوں نہیں بنتے ذلت و رسوائی والے کام اختیار نہیں کرتے •••
بلکہ آپ علماء کو عشق و محبت میں پڑتا ہو دیکھیں گے ہی نہیں
اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کو محبت ہوتی نہیں
ان کو عشق و محبت سے واسطہ پڑتا ہے ضرور پڑتا ہے مگر ان کا علم حرام طریقے اختیار کرنے سے منع کرتا ہے
ان کا علم مجنوں بننے سے روکتا ہے
ورنہ محبت تو لکھا ہوا رزق ہے
علماء کے ہر کام میں اعتدال ہوتا ہے اور اس محبت میں بھی اعتدال ہونا لازمی ہے
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے
أَحْبِب حبيبك هونًا ما عسى أن يكون بغيضك يومًا ما وأبغض بغيضك هونًا ما عسى أن يكون حبيبك يومًا ما
اپنے محبوب سے ہلکی محبت کرو ممکن ہے کسی دن وہ تمہارا ناپسند ہو جائے
اور اپنے ناپسند شخص سے ہلکی نفرت کرو ممکن ہے کسی دن تمہارا محبوب ہو جائے
یعنی محبت ہلکی کرو تاکہ ناپسند ہو جائے تو بھلانا ناممکن نہ ہو
اور نفرت کم کرو تاکہ محبت کرنی پڑ جائے تو آسان ہو
یہی اعتدال علماء کرام کی محبتوں میں ہوتا ہے
ایک طویل فہرست ہے علماء کرام کی جو محبت میں مبتلاء ہوئے مگر نہ ذلیل ہو نہ رسوا ہوئے
کیونکہ عالم جانتا ہے کہ لکھا ہوا مقدر مل کر رہتا ہے حرام راہ اپنانے کی کیا ضرورت ہے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
