کامیاب_خواتین 47
پہلی کہانی
ایک سفید ریش باپ نے بیٹی کو اسکول سے ہٹا کر دینی جامعہ میں داخل کروایا اسے عالمہ بنایا
اس عالمہ کے مرد علماء سے رابطے بڑھے
ہنسی خوشی کی باتیں کی دل ❤️ پھول 🌹 سینڈ کیئے
دبے لفظوں میں اظہارِ محبت کیا
جب ایک سے جی بھرا دوسرے کو پکڑا
اس کے علم و فضل کی تعریفیں کی پھر اسے چھوڑا اگلے کو پکڑا
جب ایک نے عالمہ کو تنبیہ کی نہ مانی اس نے اچھی حرکات کی اس کی حرکات کی وجہ سے عالم نے اس کے باپ کو کال کی سمجھایا کہ بیٹی کو قابو کریں باپ کو شاید بیٹی ایک اے ٹی ایم مشین لگتی تھی کیونکہ وہ ایک ادارے میں معلمہ تھی
بیٹی کو کچھ نہ کہا
عالم صاحب نے تنگ آ کر اس ادارے والوں کو اس کی وہ باتیں ثبوت کے ساتھ دکھا دیں
اس نام نہاد عالمہ کو اس جامعہ کی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا
پھر بھی باز نہ آئی اور خوب جھوٹ و کذب بیانی اور مکاری سے کام لیا اور عالم کو بدنام کرنا شروع کیا
عالم صاحب کب تک برداشت کریں عالمہ کی شادی تڑوا دیں تو وہ ظالم؟
دوسری کہانی
ایک طالبہ کو صرف و نحو کی پختگی لانی تھی
ایک وٹس ایپ گروپ سے ایک مدرس سے بات چیت شروع ہوئی
بات آگے بڑھی نکاح ہوا خفیہ ملاقاتیں ہوئیں پھر طلاق
اب طالبہ پریشان کہ زندگی بردبار
قصور کس کا؟
تیسری کہانی
ایک عالمہ کو ایک عام آدمی سے فیسبک پر محبت ہوئی خوب ایک دوسرے کے سامنے منافقت سے کام لیا گیا
پسند ہوئی نکاح ہوا ملاقاتیں ہوئیں
بعد میں پتا چلا مرد شادی شدہ تین بچوں کا باپ ہے
اور اب عالمہ صاحبہ کو طلاق بھی نہیں دیتا
وہ مرنے کو تیار کہ ماں باپ کو اس شادی سے کیسے منع کروں جو وہ کرنا چاہ رہے ہیں
ظالم کون مظلوم کون؟
چوتھی کہانی
ایک عالم اور ایک طالبہ علمی ابحاث کرتے
باہم دلچسپی کی گفتگو ہوتی
طالبہ مکمل ناز و ادا کے طلسم چلاتی اچھے خاصے عالم کو بہکا دیا
ذو معنی ابحاث کرتی حتی کہ آپ سے ملنا ہے کبھی آپ کے شہر چکر لگانا ہے وغیرہ وغیرہ
جبکہ عالم نے ہزار بار منع کیا مسئلہ پوچھا کریں وبس
چھ نمبروں سے اسے بلاک کیا اس کی ماں کو کال کروائی کہ بچی کے باپ کو بتا دیں گے آگے سے ماں روئے کہ اسکا باپ مجھے طلاق دے دے گا آپ انکو مت بتائیں
طالبہ پھر بھی لگی رہی
عالم ایک مرد ہی تھا جب برداشت ختم ہوئی طالبہ کو دیکھنے کو تقاضا کیا تو رابعہ بصریہ بن گئی
گویا کسی پرندے نے بھی موصوفہ کو نہ دیکھا ہو ایسی عفت مآب بن گئی
اور پھر جگہ جگہ عالم کو بدنام کرنے لگی
کون مجرم ہوا؟
ایسی شمار کہانیاں جو صاحبِ معاملہ نے خود بتائی ہیں
ماں باپ کو چاہیئے دینی اداروں میں داخل کروا کے موبائل دے دینے والا جرم نہ کیا کریں
کہ ہماری بچی اب عالمہ بن رہی ہے تو بس ولیہ ہے
یہاں اس طبقے میں جھوٹ میں نے اتنا دیکھا ہے کہ شیطان شرما جائے
غیبت اتنی ہے کہ شیطان کہے میرے بھی بڑے ہیں یہ تو
بہتان بازی تو یقین کریں گناہ سمجھتے ہی نہیں جبکہ یہ کبیرہ گناہ ہے
مرد کی بات رہ گئی کیونکہ اکثر خواتینِ اسلام کو مجھ سے شکوہ ہے کہ آپ صرف خواتین کو سناتے ہیں مردوں کو کیوں نہیں تو ایسے مردوں کے لئے بس ایک بات کہ وہ مَرد نہیں مُردے ہیں
شیطانیت و حیوانیت سے بھرے جانور خواہ دینی لباس میں ہوں
خواتینِ اسلام نازک و شفاف شیشے ہیں خود کو خود بچانا ہے
پرفتن دور میں دین اس کا متحمل نہیں ہے ان بے لگام گھوڑیوں کو چھوڑ دیا جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
