وہ خواتین جن کو لگام ڈالی جاتی تھی

کامیاب_خواتین 32

°°° مجرم بن جائیں باغی نہیں °°°

آپ نے سنا ہوگا کہ اپنی زبان کو لگام دو
تو آج وہ لگام دیکھ بھی لیں

یہ فضول گوئی کرنے والی عورت کی لگام ہے
جسے سترہویں صدی کے وسط میں یورپ کے اندر فضول گوئی کرنے والی اور لڑاکا خواتین کی تادیب کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا
اسلام نے اس عورت کو آزادی دی عزت دی مگر یہ عورت اسی سترہویں صدی کی جہالت کی طرف جانا چاہتی ہے

یہ کیا قیامت ہے باغبانوں کہ
جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر

اسلام ہی یہ بہار لایا اور وہی اسلام لوگوں کو چبھتا ہے
اسلام نے اپنے حق کے لیئے عورت کو بولنے کا مکمل اختیار دیا ہے
تاریخِ اسلام میں خواتین کی فصاحتوں اور بلاغتوں کے بے شمار واقعات ہیں
خاتونِ اسلام مفسرہ بھی ہے محدثہ بھی نحویہ بھی ہے اصولیہ بھی ادیبہ بھی ہے تو فصیحہ و واعظہ بھی ہے

اب آپ پر منحصر ہے کہ اپنی جدات کے نقوشِ قدم پر چل کر مفسرہ و محدثہ کا لقب لینا ہے یا مفسدہ و شریرہ ہو کے منہ میں لگام ڈالنی ہے

ویسے آج کل عموما خواتین کے منہ ایسی لگام ہونی چاہیئے تاکہ فضول بول نہ سکے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں تاکہ گھر سے نکل نہ سکے
تو معاشرے کا اسی فیصد نظام درست ہوجائے گا
کیونکہ اکثر جرم عورت کی وجہ سے کیئے جاتے ہیں
کیونکہ سیانے لوگ کہ گئے کہ ہر جرم کے پیچھے ان تین اشیاء میں سے ایک کا عمل دخل ہوتا ہے زر, زمین, زن
اور زر و زمین کی کثرت کرنا عورت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے
خواتینِ اسلام سے گزارش ہے کہ اپنی زبان پر شریعت کی لگام ڈالیں
کسی طوائفہ کی باتوں کو ذہن میں جگہ نہ دیں
میں عموماً ایک جملہ کہتا ہوں
ہم مجرم ہیں مگر باغی نہیں
ہم گناہ گار ہیں مگر غدار نہیں ہیں
تو دین میں مجرم ہوں , گناہ گار ہوں ہمارا رب غفور و رحیم ہے مگر بغاوت و غداری معاف نہیں کی جائے گی
“””مجرم کا جرم شانِ ستاری سے چھپا لیا جاتا ہے اور شانِ غفاری سے معاف کر دیا جاتا ہے مگر باغی کی بغاوت شانِ قھاری سے کچل دی جاتی ہے”””
الغرض شریعت کے اُصولوں پر عمل کریں اگر عمل نہ کر سکیں تو ان اصولوں کی مخالفت نہ کریں
یہ سوشل میڈیا و دیگر جگہوں کی طوائفات آپ کے دین پر حملہ آور ہیں
آپ کے شوہر بھائی باپ کے خلاف آپ کو کھڑا کر کے آپ کے دین سے باغی بنا رہی ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top