کامیاب_خواتین 33
°°° منہ توڑ جواب °°°
لبنانی میڈیا کے دیما صادق نے اوپر والی تصویر شائع کی یہ ثابت کرنے کے لیئے کہ برقع پہننے والی خواتین فرسودہ خیال ہیں اور ترقی میں رکاوٹ ہیں
جبکہ بے پردہ خاتون آگے بڑھ رہی ہے پردے والی پیچھے کی طرف جا رہی ہیں
پھر اس اخلاق سوز تصویر کا انتہائی شاندار جواب نبیل نورالدین الموسوی کی طرف سے آیا جس میں انہوں نے تصویر کو
“مکمل تصویر “
کے عنوان سے شائع کیا
اور اوپر لکھا کہ ہر کتاب قیمتی نہیں ہوتی اور ہر پڑھنے والا دانشور نہیں ہوتا
°°° اس میں نور الدین نبیل نے دکھایا کہ با پردہ خواتین واقعی پیچھے ہٹ رہی ہیں اور بے پردہ خاتون آگے بڑھ رہی ہے لیکن اس کے آگے گہری کھائی ہے °°°
جس میں وہ گر کر ہلاک ہونے جا رہی ہے
بے پردگی واقعی آگے لے جاتی ہے مگر آگے ہلاکت خیر گڑھا ہے
اور با پردہ خواتین پیچھے ہٹ رہی ہیں جس سے ان کی جان بچ رہی ہے
اقبال نے کہا
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
کہتے ہیں اس علم کو اربابِ نظر موت
جدت پسندی مردوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے
خواتین کا تو وہ حال کرتی ہے کہ ان کے پلے نہ عزت چھوٹی ہے نہ عصمت چھوڑتی ہے
جسم کا لباس اترنے سے پہلے دل و دماغ سے شرم و حیاء کا لباس پہلے اترتا ہے
اور جدت پسندی , لبرل ازم یہ سب دل و دماغ سے شرم و حیاء کا لباس ہی تو اتارتے ہیں
اور دل و دماغ سے فطری و جدی پشتی حیاء کا لباس اسکول و کالج کی تعلیم ہی تو اتارتی ہے
ہماری قوم ایسی بد قسمت ہے کہ زیادہ تر توجہ دنیاوی تعلیم پر دیتی ہے بس اسلامی ٹچ دینے کے لیئے صبح و شام بچے کو مسجد یا مدرسے بھیج دیتے ہیں
اور پندرہ سولہ سال اسکول کالج کی تعلیم دلواتے ہیں جبکہ دینی تعلیم ناظرہ قرآن تک بس ہو جاتی ہے
چھ گھنٹے دنیاوی غیر اسلامی تعلیم اور آدھا گھنٹہ صبح آدھا گھنٹہ شام قرآن کریم سے بچے عالم و مجاہد بن پائیں گے ؟
ایسی صورت میں دل و دماغ پر شرم و حیاء کا لباس باقی رہ پاتا ہے یا نہیں آپ خود سوچ لیں #سیدمہتاب_عالم

