آپ ملکہ بننا چاہتی ہیں کہ لونڈی

کامیاب_خواتین 24

یہ قصہ پاک و ھند میں بہت مشہور ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں یہ کس عالِم کا ہے؟
علامہ شعراوی مصر کے بہت بڑے عالم تھے عرب و عجم میں انکی علمیت کا سکہ چلتا تھا
1998 میں ان کا انتقال ہوا
یورپ و امریکہ ان کو اچھی طرح جانتا تھا
عرب و عجم کے علماء ان کی عزت و توقیر کیا کرتے تھے
ایک بار ایک انگریز نے ان سے پوچھا
°°° اسلام نے عورت کو قید کر رکھا ہے اس پر پابندی لگا رکھی ہے آپ بتائیں اسلام کس بناء پر قبول کیا جائے؟ °°°
فرمایا
بتاؤ اسلام نے کیا پابندی لگائی ہے؟
انگریز کہنے لگا کہ اسلام نے عورت کو مرد سے مصافحہ کرنے سے منع کر رکھا ہے یہ عورت کے حق پر ڈاکہ ہے
آپ نے فرمایا
تمہاری ملکہ الزبتھ کے ساتھ تم مصافحہ کر سکتے ہو؟
اس نے کہا
نہیں
برطانیہ کے قانون میں ملکہ صرف سات قسم کے لوگوں سے مصافحہ کر سکتی ہے اس کے علاوہ ملکہ سے کوئی ہاتھ نہیں ملا سکتا
علامہ شعراوی نے فرمایا
اسی طرح اسلام نے میں ہر خاتون ملکہ ہے
اور اس سے صرف اس کے محارم ہی ہاتھ ملا سکتے ہیں
بلکہ ایسی ملکہ ہے کہ اس کو غیر کا چھونا تو دور غیر دیکھ بھی نہیں سکتا
اب جو خواتین خود کو بے پردہ رکھتی ہیں وہ سمجھ لیں ملکہ نہیں لونڈیاں ہیں
کیونکہ اسلامی احکام کے مطابق پردہ صرف لونڈی پر فرض نہیں ہے
آزاد عورت پر پردہ فرض ہے
سابقہ زمانوں میں آزاد عورت اور لونڈی کی پہچان پردے سے ہوا کرتی تھی
°°° جو بے پردہ ہوتی سب کو پتا ہوتا یہ کسی کی زر خرید لونڈی ہے °°°
بے پردہ ہو بھی گئی تو اس کے باپ بھائی تو ہیں نہیں جن کے لیئے عار و شرم کا مقام ہوگا
اور لونڈی کو پردہ کرنا بھی منع تھا کیونکہ آزاد عورت کی نشانی پردہ تھی
تو آج کل جو خواتین بے پردہ ہوتی ہیں حقیقت میں وہ لونڈیاں و باندیاں ہی ہوتی ہیں
اب مسلمان خاتون کو خود انتخاب کرنا ہے کہ وہ ملکہ بن کر رہتی ہے یا لونڈی بن کر رہنا چاہتی ہے ؟
#سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top