ایسی خاتون لاکھوں میں ایک ہوتی ہے

کامیاب_خواتین 20

ایک خاتون جب بھی اپنے شوہر کو پسند کا کھانا لاتی تو شوہر کہتا اچھا ہے لیکن میری ماں اس سے بہتر پکاتی ہے
بیوی شوہر کو مسکرا کر دیکھتی اور چلی جاتی
اور جب بھی بیوی اچھا پرفیوم لگاتی وہ اس سے کہتا
کمال ہے میری ماں کی خوشبو کی طرح ہے
وہ مسکرا کے رہ جاتی

اور اس طرح اس خاتون نے ساری زندگی ایسے ہی الفاظ سن سن کر گزاری
••• میری ماں کرتی ہے میری ماں کہتی ہے میری ماں کی خوشبو میری ماں کا کھانا پکانا وغیرہ وغیرہ بیوی ہر بار مسکرا کر رہ جاتی •••

شادی کے 27 سال بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا والدہ کی تدفین کے بعد
شوہر اکیلا بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کی آزمائش میں اسے تسلی دینے گئی
تو اس نے اس سے کہا
اب تمہارا کھانا پکانا میری ماں کے پکانے جیسا ہو گیا ہے
اور تمہاری باتیں میری ماں کی طرح ہیں
تمہاری ہنسی , تمہاری خوشبو بھی میری ماں جیسی ہوگئی ہے

بیوی مسکرا کر بولی وہ کیسے؟

تو شوہر نے کہا
میں نے تم سے 27 سال کی عمر میں شادی کی تھی اور ہماری شادی کو 27 سال ہو چکے ہیں اب تم میری ماں
جیسی سوچ رکھنے لگی ہو

بیوی کہنے لگی آپ ریاضی کے پروفیسر ہیں پھر بھی آپ کا حساب غلط ہے
شوہر نے کہا وہ کیسے بیوی کہنے لگی
میں جب تک زندہ ہوں آپ کی ماں کے برابر نہیں بن سکتی
••• ان کے 54 سال دینا میرے 27 سال کے برابر نہیں ہوسکتے اور جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے میں ان کے برابر نہیں ہوسکتی •••

خاوند فرط جذبات سے رو پڑا اور کہنے لگا
کیا تمہیں کبھی میری ماں سے تشبیہ دینے کی تکرار سے پریشانی نہیں ہوئی ؟
میں ہر کام میں ماں کو یاد کرتا انکی تعریف کرتا تھا

بیوی نے کہا
کبھی نہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی مجھے خوشی ہوتی تھی
خاوند نے کہا وہ کون سی باتیں ہیں جو تم تمنا کرتی رہی اور میں تم سے پوچھ نہ سکا

بیوی نے جب بھی آپ اپنی ماں کی بات کرتے اور میرا موازنہ ان سے کرتے تھے
°°° میں کہتی اے اللہ میرے بیٹے کے دل میں میری محبت ویسے ہی ڈال دے جس طرح تو نے اس کی دادی کی محبت اس کے باپ کے دل میں ڈالی ہے °°°
کیونکہ آپ کی اپنی والدہ سے محبت تمام حدوں سے بڑھ کر ہے اور میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا بھی مجھ سے ویسی ہی محبت کرے جیسی آپ اپنی والدہ سے کرتے ہیں

اور میرے سر تاج مجھے آپ پر فخر ہوتا تھا کیونکہ آپ کا بیٹا آپ پر ہی جائے گا

اے اللہ ہمیں والدین کی رضا حاصل کرنے والوں میں شامل فرما
اگر آج کی بہو یہ بات , یہ گر سیکھ لے تو بڑھاپے میں پر سکون رہے گی
••• آج کسی کے بیٹے پر قبضہ جمانے کی کوشش کل اپنے بیٹے کو ہاتھوں سے نکال دے گی •••
کیونکہ دنیا مکافات عمل ہے

بیہودہ عورت جوانی میں الگ گھر اور بڑھاپے میں سب کے ساتھ مل کر دینا چاہتی ہے جبکہ بڑھاپے میں ذلیل و رسوا ہوتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top