14 کامیاب_خواتین
••• کون سی خواتین مرد کو مرد بناتی ہیں •••
سپین کا بادشاہ تاج کیوں نہیں پہنتا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی ملک الجزائر اس کی وجہ ہے؟
1541ء میں چارلیکان نے الجزائر کے شہر پر قبضہ کرنے کے ارادے سے حملہ کیا
جہاں اس نے ایک طاقتور بحری بیڑہ تشکیل دیا جس کا نام ’’آرمادہ‘‘ تھا
اور یہ بحری بیڑا ہسپانوی جزیرے میلورکا سے دارالحکومت کے ساحلوں کی طرف روانہ ہوا
لیکن اس مہم کو الجزائر کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ہسپانویوں کے لیے اس کا المناک انجام ہوا
کیونکہ جنگ کے بعد ان کی لاشیں کئی دنوں تک سمندر کی سطح پر تیرتی دیکھی گئیں
تقریباً 20,000 فوجی ہلاک اور 250 سے زیادہ جنگی جہاز تباہ ہو گئے
ہسپانوی شہنشاہ 8000 سپاہیوں کو دارالحکومت کے ساحلوں پر چھوڑنے پر مجبور ہوا کیونکہ وہاں اتنے بحری جہاز باقی نہیں تھے جو سپاہیوں کو واپس لے جاتے
جب وہ پیچھے ہٹ گیا تو اب “Tamnvost” نامی علاقے میں چارلیکن نے تاج اپنے سر سے اتار دیا
اور کہا:
اے تاج، میں تجھے اٹھانے کے لائق نہیں، پھر اسے سمندر میں پھینک دیا
تب سے لے کر آج تک سپین کے کسی بادشاہ نے تاج نہیں پہنا
ھم نے کئی مغرور سلاطین کے تاجوں کو پاؤں تلے روندا ہے
ھم نے کئی ظالموں کو انکی اوقات یاد دلائی ہے
ھم نے خیبر میں بھی شکست دی, ھم نے حطین میں بھی ہرایا ھم نے یرموک کا بھی مزہ چکھایا, ھم نے ملاذگرد پر عبرتناک شکست دی,ھم ہند کے بتوں کا سترہ بار ستیاناس کیا,
مگر اس وقت ھم اسلامی فکر کے پابند تھے تو دنیا پر حاکم تھے آج اسلامی فکر سے آزاد ہیں تو اقوامِ عالم کے غلام بن گئے ہیں •
دشمن آج تک ہمارے اجداد کی مار نہیں بھولے اور ھم سب کچھ بھول چکے ہیں
دجالی نظام ہو یا صلیبی طاقیتں ہوں, یا اکھنڈ بھارت ہندوتوا ہو یہ سب خفیہ اور علانیہ اسلام کے خلاف تیاری کر رہے ہیں مگر جن کے خلاف تیاری ہو رہی ہے وہ غفلت کی نیند سو رہے ہیں
ہماری ترجیحات میں گدھ کی مثل مرادر جمع کرنا ھے, جبکہ اسلاف کا طرز زندگی تو یہ تھا کہ مرابطون کے دور میں عورت اپنی پڑوسن کو شرم دلاتی تھی کہ تمہارے شوہر کی تلوار پر زنگ لگا ہوا ہے یا تلوار کے دستے پر میل جم گئی ہے یعنی وہ جہاد پر کیوں نہیں گیا؟
عورت اپنی بہن کو عار دلاتی تھی کہ تمہارے شوہر کا گھوڑا کمزور کیوں ھے؟
اگر جہاد پر جاتا تو خوراک کھا کر موٹا اور زخمی ہوتا!
عورت فخر کرتی تھی کہ اتنے سالوں سے میرے شوہر کی تلوار پر زنگ نہیں چڑھا یعنی وہ جنگ میں استعمال ہوتی ہے اور یہ میرے لیئے فخر کی بات ھے
مرابطون کے دور میں شادی کے قابل جوان لڑکیاں بھی ایسے نواجوان سے شادی کرنے سے گریز کرتی تھیں جو خوشبو کا استعمال کرتا ہوتا کیونکہ وہ جہاد پر نہیں گیا ہوتا
مرابطون کے دور میں مقولہ تھا ایسا مرد شادی کے قابل نہیں ہے جس کے قدم جہاد میں گرد آلود نہ ہوئے ہوں
اس وقت جو لڑکا نماز نہ پڑھتا اور علماء کی صحبت اختیار نہ کرتا تو لڑکیاں کہتی تھیں یہ میرے بچوں کا باپ بننے لگ قابل نہیں ہے
یہ تو ہمارے جانوروں کا خادم بننے کے قابل ہے
وہ زمانہ ایسا تھا کہ خواتین مرد کو مرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں
اور اب یہ دور ہے کہ خواتین مردوں کو مخنث بنانے میں سب سے آگے ہیں
خواتین ایسے سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں جو مال جمع کر دے حلال و حرام کی کوئی فکر نہیں ہے
اب عورت دوسری عورت کو مرد کی کمائی زیادہ نہ ہونے پر شرم دلاتی ہے
بڑا گھر نہ ہونے پر شرم دلاتی ہے
گاڑی نہ ہونے پر شرم دلاتی ہے
بے نمازی ہونے پر شرم نہیں دلاتی دین ہونے پر شرم دلاتی ہے
داڑھی منڈا مخنث ہونے پر شرم نہیں دلاتی بلکہ داڑھی والا وجیہ مرد ہونے کر شرم دلاتی ہے
تبھی نہ وہ مرد رہ گئے نہ صلیبیوں کے تاج اتار پا رہے ہیں
وہ مرد جو صلیبی بادشاہ کو کتے کی قیمت پر فروخت کر دیں یا وہ مرد جو ان کے تاج اتار دیں خواتین کی وجہ سے ایسے مرد تیار ہوتے ہیں
جب خواتین ہی مردوں کو مرد نہ رہنے دیں تو فاتح کون ہوگا؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
