نر کا سر کھانے والی مادہ

عجائباتِ_عالم 55

اس خوبصورت کیڑے کو اھلِ عرب اس کی خوبصورتی کی وجہ فرس النبی یعنی نبی پاک کا گھوڑا کہتے ہیں
بظاہر یہ پھول لگتا ہے مگر حقیقت میں ایک قسم کا کیڑا ہے جو بالکل پھول جیسا ہے
اس کی ٹانگیں ہوبہو پھول کی پنکھڑیوں جیسی ہیں
یہ اپنی بناوٹ سے دو طرح کے کام لیتا ہے دشمن سے بچنے اور اپنے شکار پر حملہ کرنے کا کام
اور دوسرا کیڑا جسے پاک و ہند میں اللہ تعالیٰ کا گھوڑا کہتے ہیں یہ بظاہر پیارا سا مگر اس کی مادہ نر کے لیئے انتہائی خطرناک ہوتی ہے
ملاپ کے بعد مادہ نر کا آدھا سر کھا لیتی ہے
اور پھر نئے نر کی تلاش شروع کر کر دیتی ہے
کتاب الحمقاء میں ہے
ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی چرواہے نے اپنے گدھے کو چرائے ہوئے دعاء کی اے اللہ کاش تیرا بھی گدھا ہوتا تو میں اسے بھی چرایا کرتا
اس دور کے نبی کو خبر ہوئی تو وہ اس کے خلاف دعاء کرنے لگے تو اللہ رب العزت نے وحی بھیجی اے نبی ہر انسان اپنی عقل کے مطابق کلام کرتا ہے
یعنی آپ ان کے خلاف دعاء نہ کریں
تو جو لوگ ایسے کیڑے مکوڑے کو اللہ تعالیٰ کا گھوڑا یا نبی پاک کا گھوڑا کہتے ہیں وہ ان کی حماقت ہوتی ہے یا اس کیڑے مکوڑے کی خوب صورتی کی وجہ اس کو رب العالمین کا گھوڑا کہتے ہیں مگر یہ کہنا نا درست ہے
اس سے اجتناب کریں اور بچوں کو منع کریں
بچوں کو خالص توحید و رسالت کے احکام سکھائیں
اللہ رب العزت کی تنزیہ و پاکی اور صفات کا بیان کریں تاکہ بچے سچے مومن بن کر معاشرے میں ابھریں
بدقسمتی ہے کہ کلمہ طیبہ ایمان مفصل و ایمان مجمل کے سوا صفات الٰہیہ کا بیان بچوں کو ماں باپ خود نہیں کرتے
توحید و توکل و تقدیر و دعاء و رضا و صبر و قضاء کے بارے بچوں کو کیا بڑوں کو علم نہیں ہے
علماء سے مربوط رہیں گے تو خود بھی اور بچوں کو بھی کامل الایمان شخص بنا پائیں گے
بہر حال عجائباتِ عالم میں سے یہ مادہ اپنے نر کا حقیقی سر کھا لیتی ہے جبکہ انسانوں میں مادہ اپنے نر کا معنوی سر کھاتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top