عجائباتِ_عالم 17
یورپ کے دو شہر لوبلین اور ویلنیئس کے درمیان تقریبا چھ سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے
اور تصویر میں نظر آنے والا دروازہ دونوں شہروں کو ملا دیتا ہے
سائنس فنکشن مویز سے متاثر کہ جادوئی دروازے سے داخل ہو جاؤ اور دوسری دنیا میں گھس جاؤ
جدید انسان یہ تو نہیں کر سکا مگر اس طرح کے گول دروازے بنا دیئے ہیں جس سے سینکڑوں کلو دور شہر کا منظر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے
یعنی اس سڑک پر گزرنے والے ایک دوسرے کو نہ صرف دیکھ سکتے ہیں بلکہ ہیلو ہائے کرتے ہیں
یہاں اہم بات تو یہ ہے کہ
صدیوں پہلے ایسے جادوئی دروازے واقعی موجود تھے مصر و عراق کی قدیم تہذیبوں میں ان کے آثار ملتے ہیں
آج صرف موویز میں ہیں جبکہ اب فلموں سے نکل کر ٹیکنالوجی سے قدیم دروازوں کی یاد تازہ کی گئی ہے
مگر اہم بات یہ ہے کہ زمانہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے
اشارے صاف بتاتے ہیں کہ حضرت انسان کا آخری وقت آ چکا ہے
دجال جب ظاہر ہو جائے نہیں معلوم سورج مغرب سے کب طلوع ہو جائے نہیں خبر لہذا توبہ و استغفار کو معمول بنا لیں
المسالک و الممالک میں ہے
دنیا کے عجائبات چار ہیں
پہلا
اسکندریہ کے مینار پر ایک آئنیہ تھا جس میں انسان قسطنطنیہ کے مناظر دیکھ سکتا تھا جبکہ اسکندریہ مصر اور قسطنطنیہ ترکی کا شہر ہے ان دونوں شہروں کے بیچ وسیع سمندر ہے
دوسرا
ایک تانبے کا گھوڑا اندلس میں کہ جس نے ہاتھ پاؤں پھیلائے ہوئے ہیں جو بھی وہاں جاتا ہے چیونٹیاں اسے نگل جاتی ہیں
تیسرا
قومِ عاد کی زمین پر تانبے کا مینار اور اس پر تانبے کا سوار ہے جب بھی محرم الحرام شروع ہوتا ہے اس سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے اتنا کہ سب لوگ سیراب ہو جاتے ہیں جب محرم الحرام گزر جاتا ہے پانی ختم ہو جاتا ہے
چوتھا
تانبے کا درخت جس پر تانبے کا پرندہ ہے جب زیتون کا موسم آتا وہ پیلا ہو جاتا اور اس قسم کے پرندے مزید وہاں آجاتے تھے
{ المسالک و الممالک لابن خرداذبہ }
الغرض پرانے لوگ اتنے ماہر تھے کہ سینکڑوں کلو میٹر دور ائینے میں دیکھ لیتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے
لوگوں کی ایک تعداد ہے جو آج بھی مانتی ہے کہ دروازے موجود ہیں جو دِنوں کا سفر لمحوں میں طے کروا دیتے ہیں
ممکن ہے کچھ علوم ایسے ہوں جو ایسے دروازے کھول سکتے ہوں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

