ہوائی راکٹ بنانے والے مسلمان سائنسدان تھے

اسلامی_سائنس 19

°°° میں عیسی علیہ السلام کے پاس آسمان پر جا رہا ہوں °°°

آج کے ترقی یافتہ دور کا جدید انسان ہواؤں, خلاؤں میں جو اڑان بھر رہا ہے تو بلا شبہ مسلمان علماء و سائنس دانوں کے صدقے میں اڑ رہا ھے
اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو پڑھیئے اپنے شاندار ماضی کی ہلکی سی جھلک دل و دماغ کی آنکھیں کھول کر پڑھیئے

عموماً ایک غلط فہمی بلکہ جھوٹ جو زدِ نوکِ زبانِ عام و خاص ہے کہ میزائل و راکٹ 16مارچ 1926 میں Robert Hutchings Goddard نے بارودی راکٹ ایجاد کیا جبکہ یہ سراسر دجل و فریب ہے
اس سے پہلے شیرِ میسور سلطان ٹیپو نے جنگ پلاسی میں اڑنے والے راکٹ کا استعمال کیا تھا

اور یہ راکٹ صرف آگ لگانے والے تھے مگر ان سے پہلے راکٹ بطور ہوائی سفر صدیوں پہلے پو چکا تھا

اور یہ ترکی کے عظیم سائنسدان حسن چلپی لاگوری نے نہ صرف ہوائی سفر کے لیئے راکٹ ایجاد کیا بلکہ اس میں سفر بھی کیا تھا

ترکی کے ہے مشہور سیاح اولیاء چلپی نے اپنی کتاب سیاحت نامہ میں لکھا ہے کہ

حسن چلپی نے سلطان مراد رابع کی بیٹی قایا کی سالگرہ پر ایک راکٹ ایجاد کیا جو سات گز کا تھا اس میں تقریبا 50 اونس (تقریبا ڈیڑھ کلو)بارود بھرا, اور شاگرد کو کہا آگ لگاؤ تو آگ لگتے ہی وہ اڑا اور تقریباً دو کلو میٹر تک سفر کیا
اور جب بارود ختم ہوگیا تو اس نے خاص قسم کے پروں کو کھول دیا جس سے راکٹ کی زمین پر لینڈنگ آسان ہوگئی تھی

جب راکٹ کے بارود کو آگ لگائی گئی تھی تو حسن چلپی نے سلطان مراد رابع کو اڑتے ہوئے مزاحاً کہا
اے سلطان میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور اب میں سیدنا عیسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام سے باتیں کرنے جا رہا ہوں

حسن چلپی کے راکٹ پر سفر کرنے کا اقرار ناروے کے سائنس دان مورٹز روواک نے 15 دسمبر 1998 میں Weekly World News کو انٹر دیتے وقت کیا تھا کہ اس راکٹ کے دو حصے تھے جس سے حسن چلپی نے ہوائی سفر کیا تھا

حسن چلپی کا ہوائی سفر دو کلو میٹر تک تھا مگر ان کے بعد ایک اور ترکی سائنس دان احمد چلپی جو کہ ہزار فن لقب سے مشہور تھے
انہوں نے راکٹ ایجاد کیا یہ 1045 ھجری کی بات ہے

اس راکٹ سے انہوں نے تقریباً سات کلو میٹر کا ہوائی سفر طے کیا تھا جس کی اڑان 60 میٹر تھی

میں ترکی کے اخبار صباح کا ایک مضمون پڑھا جس میں فرانس کے مشہور سائنسدان پیری کیوری کا قول بیان کیا گیا کہ

ہم نے ایٹم کی تقسیم کی پہچان ان تیس کتب سے کی جو اندلس میں جلنے سے بچ گئی تھیں اگر کتب وہ سارا خزانہ ہمارے ہاتھ لگ جاتا جو سقوطِ اندلس میں جلا دیا گیا تھا تو آج ہم خلاؤں میں اڑ رہے ہوتے!
جدید دنیا مسلمانوں کی عطاء کردہ ایجادات پر قائم ہے اگر مسلمان نہیں تو دنیا نہیں

مگر سوال ہے کہ کیا ہمیں ہمارے بچوں کو اپنے آباؤ و اجداد کے اسلاف و علماء کے کارنامے معلوم ہیں؟
یا ہم اور آنے والی نسلیں اسی احساس کمتری میں مارے جائیں گے کہ دنیا کے اعلی ترین دماغ گوروں کے پاس ہیں؟
اور ہم ہمیشہ پر ایجاد میں ان کے محتاج ہیں؟
اگر یہ احساسِ کمتری مٹانا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو علم دین کی اور اسلامی تاریخ کی تعلیم دیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top