ریڈار کی ایجاد صدیوں پہلے مسلمانوں کی ہے

اسلامی_سائنس 18

شتر مرغ وقتاً فوقتاً اپنا سر زمین میں دھنساتا ہے
اسکی وجہ بڑی خاص ہے

اللہ رب العزت نے شتر مرغ کو دور سے آتی ہوئی انتہائی ہلکی سی آہٹ بھی سننے اور ان آہٹوں کو پرکھنے کی صلاحیت دی ہے
کہ یہ آہٹ دوست کے آنے کی ہے یا دشمن کے آنے کی ہے
اسی صلاحیت کو بروئے کار لاکر اپنی جان بچاتا ہے

آپ شتر مرغ کو قدرتی ریڈار کہ سکتے ہیں
جو جانور شتر مرغ کے ارد گرد رہتے ہیں شتر مرغ کی اس صلاحیت کی وجہ سے وہ بھی فائدہ اٹھا کر جان بچاتے ہیں

بعض لوگ کہتے ہیں شتر مرغ جانوروں سے ڈرتے ہوئے اپنا سر زمین دھنسا لیتے اس کے مطابق ایسے دشمن اسکو نہیں دیکھ سکتا جیسا کہ ہمارے ہاں کبوتر بلی کا کھیل مشہور ہے

بعض لوگ کہتے ہیں مادہ شتر مرغ اپنے انڈے زمین میں رکھتی ہے ان کو وقتا فوقتاً الٹتی پلٹتی ہے
دور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے اس کا سر زمین میں گڑا ہوا ہے!

بہر حال پہلی وجہ (کہ دشمن کی آواز سننے کو زمین میں سر دھنساتے ہیں)
اسی وجہ کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان سائنسدانوں نے صدیوں پہلے ایک قسم کا ریڈار بنایا تھا

تاریخ الخلفاء میں ہے ایک خلیفہ کے وقت میں بغداد کے میدان میں ایک مجسمہ نصب تھا

اس میں ایسی تکنیک استعمال کی گئی تھی کہ جدھر سے دشمن کی فوج آرہی ہوتی اس مجسمے کا رخ ادھر ہوجاتا تھا
یعنی اسلامی سنہری دور کا ریڈار تھا

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ صدیوں پہلے مسلمانوں نے انتہائی حساس سینسر ایجاد کیا تھا جو ہوا کے دباؤ کو محسوس کر کے ادھر رخ کر لیتا
یا ایسا مقناطیس نظام ایجاد کیا تھا جو لشکر میں موجود لوہے کی بھاری مقدار کی وجہ سے ادھر رخ کر لیتا تھا

مسلمانوں کا ایجاد کردہ سینسر واقعی موجود تھا اس پر ایک الگ تحریر لکھی ہے
ہم کہ سکتے ہیں ریڈار کا تصور دینے والے اور سب سے پہلے ریڈار بنانے والے مسلمان سائنسدان ہیں

تاریخ الخلفاء کا مکمل حوالہ میرے ذہن میں ممکن ہے کسی اور کتاب میں بھی ہو
بہر حال مسلمان سائنسدانوں کے کارنامے دن کی طرح روشن تھے جنہیں رات کی تاریکیوں میں دفنا دیا گیا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top