دنیا میں سے سب سے پہلا جانوروں کا ہسپتال

اسلامی_سائنس 4

_ مسلمانوں اور فرنگیوں کا جانوروں سے محبت میں فرق _

ترکی کے باکمال لوگوں کی ایک کمال کی عادت یہ بھی کہ وہ کتے بلیوں اور جنگلی جانوروں کا بہت خیال رکھا کرتے تھے

اور ان کا خیال رکھنا یورپین کی طرح کا نہیں کہ زلزلہ یا سیلاب آیا تو اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر کتے بلیاں اٹھا کر جان بچا لی ماں باپ کو تڑپتا چھوڑ دیا

بلکہ بہت منفرد تھا

عثمانی ترکوں نے تقریبا ہر شہر میں ایک ادارہ کھولا ہوتا تھا جسکا نام مانکا ہوتا تھا

جس میں اس شہر کے مالدار پیسہ ڈالتے ادارہ چلانے والے ان پیسوں سے شہر بھر کے آوارہ کتے بلیوں کی خوراک بلکہ ان کی بیماریوں کی دوا بھی کیا کرتے تھے

جب سردیاں آتی تو یہ اھتمام کم نہیں بلکہ شہر کے جانوروں سے پھیل کر جنگلی جانوروں تک پہنچ جاتا

وہ لوگ جنگلی جانوروں کو بھی سردیوں میں خوراک کی قلت کے پیش نظر کھانا فراھم کرتے تھے

کہا جاتا ھے دنیا میں سب سے پہلا جانوروں کا باقاعدہ ہسپتال بھی ترکوں نے بنایا تھا
ظاہر ہے ہسپتال کا مطلب ہے وہاں جانوروں کا علاج معالجہ دوائی وغیرہ طبی اصولوں پر دی جاتی تھی
یعنی مسلمان طبیب اتنے ماہر تھے کہ جانوروں کی بیماریاں جانتے اور ان کی تشخیص کر کے علاج کرتے تھے

دوسرے عثمانی سلطان اورحان نے جانوروں کے متعلق بھی کچھ قوانین بنائے تھے

اور بالکل اسی زمانے میں یورپین بھی سال میں جانوروں کا ایک دن مناتے تھے مگر وہ تمام گلی محلوں سے جانور جمع کر کے انکو زندہ جلا کر جشن مناتے تھے
جی ہاں یہ بالکل سچ ہے یورپ کے لوگ بلیوں خاص طور پر سیاہ بلی کو بد روح سمجھتے تھے اور سال میں ایک دن مقرر کر کے ان سیاہ بلیوں کو پکڑ کر جلاتے اور جشن مناتے تھے

اور ادھر عثمانی ترک اگر فوت ہوجاتا تو وہ وصیت میں لکھ جاتا کہ میری وفات کے بعد اتنے دنوں تک جانوروں کو کھانا کھلایا جائے

ایک گدھا گاڑی والا سامان اتارے بغیر کھانا کھانے بیٹھ گیا بازار کا پاشا جو کہ بازار کا نگران ہوا کرتا تھا اس نے گدھا گاڑی والے کو سزا دی کہ جانور پر بوجھ لاد کر تم کھانا کھانے بیٹھ گئے ہو یہ جانور پر ظلم ھے

یہ ھمارے عروج کی کہانی تھی

اور اب زوال یہ ہے کہ جیتے جاگتے انسانوں کو کھانے کی فراھمی مشکل بنا دی گئی ھے

ایک مسلمان کے لئیے دو وقت کی روٹی عزت سے کھانا مشکل ترین کام ہو گیا ھے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top