اسلامی_سائنس 5
_ سر درد یا چڑیل کا قبضہ _
سلطان رکن الدین بیبرس کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مسلم دنیا کا ایک لاجواب بہادر اور علم دوست شخص سلطان بنا
جس کا نام منصور قلاوون ھے یہ سلطان مملوک سلطنت کے ساتویں بادشاہ تھا
کہا جاتا ھے قلاوون سلطان بیبرس کے برابر کے بہادر اور ذہین تھا
اس کے زمانے میں ایک طرف صلیبی دوسری طرف منگول آئے روز حملے کرتے
سلطان نے صلیبیوں سے دس سال کا امن معاہدہ کیا اور پھر منگولوں کی طرف مکمل توجہ کی 1281 اکتوبر میں حمص میں منگولوں کی بہت بری طرح شکست دی جس سے منگولوں کا کافی زور ٹوٹ گیا
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی زمانے میں ہلاکو کا بیٹا تگودار خان پہلا اتنا بڑا منگول سردار مسلمان ہوا جسکی وجہ سے بہت سے منگول ایمان لے آئے
یوں مسلمانوں کو کچھ امن نصیب ہوا
تو سلطان قلاوون نے سلطنت کے اندرونی معاملات کو دیکھا اور مصر میں سائنسی ترقی کو پروان چڑھایا
سلطان قلاوون ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے سرکاری ہسپتال کا آغاز کیا
جس کو بیمارستان کا نام دیا گیا
اس بیمارستان میں امیر و غریب کا فرق کئیے بغیر ہر ایک کا علاج کیا جاتا تھا
اور وہ صرف ہسپتال نہیں تھا بلکہ ایک میڈیکل کالج بھی تھا جہاں طلباء کو میڈیکل کی تعلیم [عملی طور پر] پریکٹیکل دی جاتی کہ جو مریض آتا انکو پڑھائے گئے اسباق کا عملی نمونہ دکھایا جاتا تھا
جدید میڈیکل کالجز کا نظام سلطان قلاوون کے طریقہ کار سے لیا گیا ہے
مذکورہ تصویر اسی زمانے کا شاہکار ہے
جس میں دکھایا گیا کہ چند مسلمان مولوی جو کہ سائنسدان ہیں ایک حاملہ عورت کا انتقال ہوگیا
تو اسکے پیٹ کو چیر کر بچے کو زندہ نکال رہے ہیں
یہ اس وقت کا باقاعدہ ڈلیوری آپریشن تھا جو بیمارستان نامی اس وقت کے جدید ہسپتال میں کیا جاتا تھا
اور عین اسی وقت یورپ میں جس کو سر درد ہوتا تو اسے سر پر جوتے مارے جاتے تھے کہ (وچ) بدروح کا قبضہ ہوگیا ھے جو صرف جوتوں سے بھاگے گی
اس وقت مسلمانوں کا اتنا عروج اور آج ایسا زوال کہ بڑے ڈاکٹر بڑے ہسپتال یورپ میں ہیں اور ھم مسلمان اصل مالک ہونے کے باوجود خالی ہاتھ ہیں
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
سلطان قلاوون کے دور سے آج کے ںے کار حکمران سبق لیں کہ تاریخِ انسانی کے وحشیانہ دور یعنی منگولوں کے دور میں ہونے کے باجود حکمتِ عملی سے کام لے کر رہتی دنیا تک قابلِ تقلید دو کام دے گئے
ایک ڈیلیوری ہسپتال دوسرا میڈیکل کالج کی بنیاد ” معلوم ہوا جب حاکم اپنا پیٹ بھرنے سے باز رہے
اور مسلمان علماء پر خرچ کرے تو تاقیامت رہنے والے کارنامے وجود میں آ سکتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

