علم و جہل میں عملی فرق

المزاح_و_الظرافت 69

ایک دیہاتی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے لگا تو امام نے قراءت میں یہ آیتِ کریمہ پڑھی

ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا وَنِفَاقٗا
دیہاتی نفاق و کفر میں زیادہ سخت ہوتے ہیں
دیہاتی نے امام کے سر پر ڈنڈا مار کے زخمی کر دیا
کچھ عرصے بعد پھر اسی امام کے پیچھے نماز پڑھی تو امام نے قراءت میں یہ آیتِ کریمہ پڑھی
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ
دیہاتیوں میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو الله اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں
دیہاتی سن کر کہنے لگا
اب تجھے اُس مار نے فائدہ پہنچا دیا ہے
احمق اپنی بات شدت سے منوانا چاہتا ہے جبکہ عقلمند غیر معلوم بات علماء کے حوالے کر دیتا ہے اور ان پر بھروسہ کرتا ہے
امام کسائی فرماتے ہیں
میں نے جماعت کروائی میرے پیچھے عباسی خلیفہ ھارون الرشید بھی تھا تو میں نے آیتِ کریمہ میں لعلهم يرجعون کی جگہ لعلهم يرجعين پڑھ دیا
خدا کی قسم ھارون الرشید کی جراءت نہ ہوئی کہ وہ مجھے کہتا آپ نے غلطی کی مگر جب میں نے سلام پھیرا تو ھارون الرشید کہنے لگا
اے کسائی لعلھم یرجعین کونسی قراءت ہے ؟
تو میں نے کہا
یا امیر المومنین قد يعثر الجواد
کبھی کبھار عمدہ گھوڑا بھی پھسل جاتا ہے
تو ھارون الرشید کہنے لگا
یہ اچھی بات کہی
❗ سیر اعلام النبلاء ❗
یہ فرق ہے عِل٘م و حِل٘م والوں میں جَہ٘ل و ظُل٘م والوں میں کہ دیہاتی نے باجود جہالت و ظلم کے دوسری بار طعنہ مار دیا جبکہ ھارون الرشید نے عالم کے سامنے بیباکی نہیں دکھائی بلکہ کم علمی کا اعتراف کیا
آج کل عوام اگر قران کا صرف ترجمہ جاننا شروع کر دے تو ہر مسجد کے امام کا سر پھٹا ہوا ملے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top