المزاح_و_الظرافت 68
امام اعمش نے اپنے دوست کو کہا کیا تمہیں بنانی { ایک قسم کی مچھلی} کی خواہش ہے جو نیلی آنکھوں والی صاف پیٹ والی سیاہ پیٹھ والی ہو اور ساتھ میں گرم و نرم روٹیاں ہوں اور مزے دار سرکہ ہو
دوست کہنے لگا
کیوں نہیں
امام اعمش اٹھے وہ دوست بھی ساتھ اٹھا اور گھر گئے
امام اعمش نے ایک برتن کی طرف اشارہ کیا اس نے وہ کھولا تو اس میں دو سوکھی روٹیاں اور ایک برتن میں چٹنی رکھی تھی تو امام اعمش وہ کھانے لگے اور فرمایا آؤ کھاؤ
دوست نے کہا
مچھلی کہاں ہے ؟
امام اعمش نے کہا
میرے پاس مچھلی نہیں ہے میں نے تو بس یہ کہا تھا کہ تمہیں مچھلی کی خواہش ہے ؟
❗ التذكرة الحمدونية ❗
مالِ مفت کی افواہ ہو تو لوگ کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں
چوتھی منزل پہ ایک بندے کے گھر کی بیل بجی اس نے اوپر نے جھانک کر دیکھا تو نیچے ایک آدمی تھا
گھر والے نے پوچھا کیا بات ہے ؟
نیچے والا کہنے لگا
نیچے آئیں آپ سے کام ہے ؟
وہ نیچے گیا تو دیکھا وہ فقیر تھا کہتا ہے الله کے واسطے کچھ دے دو
گھر والے کو بڑا غصہ آیا مگر قابو کرتے ہوئے کہنے لگا
اوپر آؤ کیونکہ رقم اوپر ہی چھوڑ آیا ہوں
جب وہ فقیر کو اوپر لے گیا تو کہنے لگا
معاف کرو
کسی کو امید دے کر توڑنی نہیں چاہیے مگر کبھی کبھی لوگ امید دے کے مزاح کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں جیسے گھر والے نے کیا جیسے امام اعمش نے کیا تھا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
