المزاح_و_الظرافت 27
اھلِ عرب کے محاورات میں کنوارا کتے کا بھائی کہلاتا ہے
ایک شاعر نے کہا
وليس أخو الكلب ابن كلب وكلبة
ولكن أخو الكلب الذي كان أعزباً
کتے کا بھائی کتے کتیا کا بیٹا نہیں ہوتا
لیکن کتے کا بھائی وہ ہے جو کنوارا ہے
ألم ترَ أن العزب يمضي حياته
وحيداً ككلبٍ عافَهُ الناس أجربا
کیا تم نے دیکھا نہیں کنوارا اس کتے کی طرح تنہاء زندگی گزار دیتا ہے جسے لوگ خارش کی وجہ سے دور رکھتے ہیں
ایک دوسرے عربی شاعر نے کہا
إذا أنت قاربتَ الثلاثينَ أعزبا
فأنتَ وكلبٌ في الفِناءِ سَواءُ
جب تو تیس سال کے قریب پہنچ جائے اور تو تب تک کنوارا ہی ہو تو گھر میں بندھا کتا اور تو برابر ہے
شاید اس کی وجہ کنوارے میں جوش و غیلان ہے
جو اسے جذباتی بناتا ہے اور لڑنے بھڑنے پر ابھارتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر ایک کو معمول کی زندگی میں بھی کاٹنے کھانے کو دوڑتا ہے
کیونکہ یہ فطرت کی تین بھوکوں (یعنی کھانے پینے جماع کی بھوک) میں ایک بھوک کا شکار ہوتا ہے
اسی وجہ سے چڑچڑا پن اس میں کثیر ہوتا ہے
جبکہ شادی شدی کا مزاج ٹھنڈا اور عقل مضبوط ہوتی ہے
کنوارا کتے کا بھائی اس لیئے قرار دیا گیا کہ نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر جنسِ مخالف کو کاٹنے دوڑتا ہے
الغرض کنوارا اھلِ عرب کے نذدیک کتے کا بھائی ہے
یہاں کنوارے سے مراد وہ ہے جو حد سے تجاوز کر چکا ہو یعنی شادی کی عمر جو عرفِ عام میں ہے اس عمر سے آگے بڑھ چکا ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
