محدثین میں سب سے زیادہ مزاح کرنے والے

المزاح_و_الظرافت 28

°°° ثقیل شخص کی صحبت کیسی °°°

محدثین کرام میں سب سے زیادہ مزاح کرنے والے امام اعمش ہیں
جو امام اعظم ابو حنیفہ کے بھی استاد ہیں

ربیع الابرار میں ھے
ایک بار محدثین کی ایک جماعت امام اعمش سے حدیث پاک کا درس لینے گئی
امام اعمش گھر کی دہلیز پر کھڑے تھے
محدثین کو دیکھ کر فوراً اندر بھاگ گئے
اور پھر جس رفتار سے اندر گئے اس سے زیادہ تیز رفتار سے باہر بھاگ کر آ گئے
محدثین نے اندر جانے پھر تیزی سے باہر آنے کا سبب پوچھا تو فرمانے لگے
تم لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہیت محسوس ہوئی میں تم کو مکروہ سمجھ کر اندر کی طرف بھاگا تھا مگر اندر تم سے زیادہ مکروہ شے بیٹھی تھی
یعنی میری بیوی 😅

امام اعمش کے اس طرح کے اور بھی مزاح سے بھر پور واقعات ہیں
ایک بار امام اعمش کی بیٹی نے کچھ پیسے طلب کیئے فرمانے لگے میرے پاس نہیں ہیں
بیٹی والدہ کو دیکھ کر کہنے لگی کہ آپ کو ان کے سوا اور کوئی نہیں ملا تھا شادی کرنے کے لیئے
امام اعمش کا امام اعظم ابو حنیفہ سے بھی کتابوں میں مزاح کرنا لکھا ہے
امام اعمش کی کی آنکھوں میں عُمش تھا اور اعمش وہ ہوتا ھے جس کی بینائی کمزور ہو وہ اشیاء کو واضح نہ دیکھ سکتا ہو
امام اعظم نے امام اعمش کو کہا کہ حدیث پاک میں ہے

من سلب الله كريمتيه عوضه الله عنهما ما هو خير منهما
اللہ رب العزت جس کی دونوں آنکھوں کا نور لے لیتا ھے اس کو ان دو آنکھوں کے بدلے ان سے بہتر چیز عطاء کرتا ھے
آپ کو آنکھوں کے بدلے کیا بہتر شے عطاء کی گئی ہے؟
امام اعمش نے مزاحا فرمایا
اللہ تعالیٰ نے مجھے گراں طبیعت لوگوں کو دیکھنا کافی کر دیا اور تم ان ہی لوگوں میں سے ہو
یعنی میرے لیئے (ثقیل) ناپسند لوگوں کو دیکھنا آسان ہوگیا ہے اور تم بھی ناپسندوں میں سے ہو

امام اعمش سے پوچھا گیا آپ اعمش کیسے ہو گئے؟

فرمایا نا پسند لوگوں کی طرف دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کی بینائی کمزور ہوگئی ہے (احیاء العلوم)

ثقیل کہتے ہیں نا پسند, جو طبیعت پر بھاری ہو جس کی صحبت میں لمحہ بھی قیامت جیسا محسوس ہو, جو طبیعت پر گراں ہو وغیرہ

اور ثقیل کے متعلق علماء نے باقاعدہ کتابیں لکھیں ہیں مفصل کلام کیا ھے
امام شافعی نے فرمایا
میں جب بھی کسی ثقیل شخص کے پاس بیٹھا تو میری جس جانب ثقیل بیٹھا وہ دوسری جانب سے زیادہ جھک گئی
ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار ثقیل شخص کو دیکھا تو مجھ پر غشی طاری ہوگئی

الغرض انسان کو اپنی طبیعت میں مزاح کا عنصر رکھنا چاہیئے
اور ناپسند لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہئے
کیونکہ ناپسند لوگوں کو دیکھنے سے نگاہ کمزور, ذہن منتشر, دل بے چین رہتا ھے
کتابوں سے دل لگائیں اور صدیوں کے واقعات پڑھیں

مجھے سب سے زیادہ مزہ اس جملے نے دیا جس تیزی سے اندر گئے اس سے زیادہ تیزی سے باہر آئے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top