حقِ بیانی ایسی کریں کہ

المزاح_و_الظرافت 16

ابو نواس عربی ادب کا بڑا نام بڑا شاعر ہے
کہتا ہے میرے پاس ایک جولاہا {پنجابی میں پاؤلی] آیا اور دعوت قبول کرنے کا کہا میں نے انکار کر دیا وہ اصرار کرنے لگا میں نے مجبور ہو کر اس کی دعوت قبول کر لی
وہاں پہنچ کر کھانا کھایا مشروب پیا پھر وہ کہنے لگا جناب میری ایک لونڈی ہے میں چاہتا ہوں آپ اس کی شان میں کچھ شعر کہ دیں [دعوت کا اصل مقصد یہی تھا] تو میں نے کہا جب تک لونڈی دیکھوں گا نہیں تو اس کے اوصاف کیسے بیان کروں گا
تو اس جولاہے نے لونڈی کے چہرے سے نقاب ہٹایا تو میں نے دیکھا وہ نہایت بدصورت سیاہ رنگ کی لونڈی تھی
اس کا لعاب اس کے منہ سے نکل کر سینے تک بہ رہا تھا
میں نے کہا اس کا نام کیا ہے
کہنے لگا تسنیم نام ہے [نہایت نفیس نام اور بدصورت عورت کھلا تضاد تھا]
تو میں نے شعر کہا
أســـهر ليــلي حــب تســنيم
جاريــة فــي الحســن كـالبوم
میں رات بھر تسنیم کی محبت میں جاگا وہ ایسی لونڈی ہے جو حسن و جمال میں اُلُّو جیسی ہے

كأنمــــا نكهتهـــا كـــامخ
أو حزمــة مــن حــزم الثـوم
اس کے منہ کی بو سِرکے کی طرح ہے یا لہسن کی گھٹی کی طرح ہے

وضـرطت مـن حـبي لهـا ضرطة
أفــزعت منهــا ملــك الــروم
اس نے میری میری محبت میں ہوا خارج کی ایسی ہوا کہ جس سے یورپ کے بادشاہ بھی گھبرا گئے

وہ جولاہا اٹھا اور رقص کرنے لگا بلکہ دن بھر ناچتا اور تالیاں بجاتا رہا کہتا رہا
شبهها والله بملك الروم
ابو نواس نے میری محبوبہ کو یورپ کے بادشاہ سے مشابہت دی ہے
شاعر ویسے بڑے جھوٹے اور مکار ہوتے ہیں مگر کبھی کبھار حق بیانی کرتے ہیں
تاریخ دمشق میں ہے
ایک دیہاتی کو اپنی چچا زاد سے محبت تھی کا نام رباب تھا اس نے اپنے چچا سے رشتہ مانگا چچا نے اتنا حق مہر مقرر کیا کہ جو اس کی حثیت سے باہر تھا
اس نے کئی مالداروں کے پاس جا کر گذارش کی کہ میری محبت کے حصول میں تعاون کریں
مگر کسی نے قبول نہ کی آخر کار ایک مجوسی نے اس کا پورا حق مہر ادا کیا
تو اس اعرابی نے مجوسی کی شان میں قصیدہ لکھا
كفانى المجوسى مهرَ الرباب
فِدىً للمجوسى خال وعٙم
مجوسی نے رباب کا حق مہر ادا کرنے میں میری مدد کی
مجوسی پر چچا ماموں قربان
وأشهدُ أنكَ رطب المشاش
وأن أباكَ الجوادُ الخضٙم
میں گواہی دیتا ہوں تو کریم النفس اور تیرا باپ سخی اور بہت دینے والا ہے
وأنكَ سيدُ أهل الجحيم
إذا ما ترديتَ فيمٙن ظلٙم
بے شک تو جہنمیوں کا سردار ہے کیونکہ تو ظلم کرنے والوں کا سردار ہے
تُجاورُ قارون فى قعرها
وفِرعونَ والمُكتنى بالحكٙم
تو جہنم کی گہرائی میں قارون اور ابو جہل کا پڑوسی ہوگا

مجوسی جل بھن کر کہنے لگا
میں نے تیری مدد کی جبکہ تیرے دین والوں نے تیری مدد نہیں کی اور تو مجھے جہنم میں قارون و ابو جہل کا ساتھی بنا رہا ہے؟
اعرابی کہنے لگا
کیا تو اس پر راضی نہیں کہ میں تجھے جہنم میں سرداروں یعنی قارون اور ابو جہل وغیرہ کے درجہ میں رکھ رہا ہوں
یعنی عام جہنمی نہیں کہا بلکہ جہنمیوں کا سردار قرار دیا ہے
والله العظیم وہ اعرابی غریب تھا مگر قوی الایمان تھا
احسان لے کر ایمان نہیں بیچا
ہمارے ہاں تو بس کچھ واقفیت ہو تو حق بیانی سے رک جاتے ہیں اور گونگے شیطان بن جاتے ہیں
بہر حال حق بیانی خواہ ابو نواس کی ہو یا اعرابی کی قابلِ داد ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top