حسین و بدصورت

المزاح_و_الظرافت 15

ایک شاعر اپنی بیوی کے ساتھ سفر سے واپس آیا تو بیوی پر نگاہ پڑی تو گرمی سے سرخ ہو رہی تھی اس وجہ سے بغور بیوی کو تکنے لگا
بیوی نے کہا کیا ہے ؟
سفر کی گرمی تھی اور سایہ سر پر تھا نہیں اس وجہ سے یہ حال ہوگیا ہے

جبکہ شاعر بیوی کے محاسن دیکھ رہا تھا تو اس نے شعر کہا

جاء الحبيبُ الذي أهواهُ من سفـرٍ
والشمسُ قد أثـّرت في خدّه أثـرا
میرا محبوب اس حالت میں سفر سے آیا کہ سورج نے اس کے گالوں میں اثر ڈال رکھا تھا

عجبتُ كيف تحلُ الشمسُ في قمرٍ
والشمسُ لا ينبغي أن تُدرك القمرا
مجھے نہایت تعجب ہوا کہ سورج چاند میں کیسے اتر سکتا ہے
جبکہ سورج چاند کو پکڑ نہیں سکتا

یعنی بیوی کے سرخ گال ایسے ہوگئے جیسے سورج اس میں اتر آیا ہو اور سورج کی تو یہ مجال ہی نہیں کہ وہ چاند کو پکڑ کر لے
یہ آیت مبارکہ کی طرف اشارہ ہے
لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ
سورج کی یہ شان نہیں کہ وہ چاند کو پکڑ سکے
اھلِ عرب کے ہاں تشبیہات و استعارات و تمثیلات کا سمندر ہے
ایسی ایسی مثال دیتے ہیں کہ عجمی بندہ ششدر رہ جاتا ہے
اسی وجہ سے جو عربی سیکھ جاتا ہے اس کی عقل وسیع ہو جاتی ہے

ایک دیہاتی کی شادی بدصورت عورت سے ہوگئی بڑے ارمانوں کے ساتھ جب پہلی بار بیوی کو دیکھا تو مایوس ہوگیا
بیوی نے کہا
سنیئے جی
آپ کے خاندان میں کس کس کے سامنے نہ آیا کروں ؟ یعنی کس کس سے پردہ کروں؟
کہنے لگا میرے سوا ہر ایک کے سامنے آیا کرو

بیوی جیسی بھی مرد کے نصف ایمان کی محافظہ ہوتی ہے
چھوٹا سا دل ہوتا ہے بدصورتی اور سستی کے طعنے دے کر دل نہ توڑا کریں
ہاں کبھی کبھار بندے کے ارمان ٹوٹ جائیں تو دیہاتی کی طرح کہ دیتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top