طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 132
الجاحظ نے ابراھیم السندی کا قول نقل کیا کہ زندیق ( بے دین ) کتابوں پر بہت خرچ کرتے ہیں تاکہ کتاب ہے ظاہری حسن و جمال کو دیکھ کر لوگ قائل مائل ہوں
پھر تفصیل میں کہا اور یہ قول زندیقوں کے لیئے نہیں ہے
كان سخاء النفس بالإنفاق على الكتب دليلا على تعظيم العلم وتعظيم العلم دليل على شرف النفس
کتابوں پر سخاوتِ نفس سے خرچ کرنا علم کی تعظیم کی نشانی ہے اور تعظیمِ علم عزت دار ہونے کی نشانی ہے
❗ کتاب الحیوان للجاحظ ❗
بعض طلباء کا کتابیں جمع کرنا شوق ہوتا ہے جو کہ درست نہیں
اکثر ایسے دیکھے گئے کہ جو عظیم الشان کتب خانوں ( لائبریریوں ) کی تمنائیں کرتے ہیں ان کی تصاویر لگا ہے اظہارِ افسوس کرتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس ایسا کتب خانہ ہوتا تو ہم راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے جبکہ بیچارے علم کے شوقین نہیں کتابیں جمع کرنے کے شوقین ہوتے ہیں کیونکہ اگر علم کے شوقین ہوتے تو جو میسر کتب ہیں کم از کم وہ تو پڑھتے
کتابوں کے شوقین نہ بنیں علم کے شوقین بنیں
طلباء کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تمنائیں کرتا ہے کاش مجھے کوئی کتابیں لے دے
ایسے لوگ بھی روحِ علم سے محروم رہتے ہیں کیونکہ جو دوسروں کے مال پر نظر رکھے گا وہ مال کا لالچی بنے گا علم کا حریص نہیں ہوگا
آج کل موبائل عام ہیں کتابیں نہ خرید سکیں تو موبائل میں پی ڈی ایف سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے
جو طالبِ علم پہلے ہی اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا کر چکا ہو وہ عملی زندگی میں اعلاءِ کلمہَ حق نہیں کر سکے گا
علم کا وہ شیدائی جو اپنی جیب سے کتاب خریدے گا تو اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک کتاب پڑھ نہ لے جبکہ مفت کی کتاب بس پڑی ہی رہتی ہے
اپنی ضروریات پیچھے کر کے کتاب خریدنے والا علم کی تعظیم کرنے والا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
