ذاتی_مطالعہ 154
ربیع بن خثیم کو کہا گیا
ہم نے آپ کو کبھی کسی کی مذمت کرتے اور کسی کو عیب لگاتے نہیں دیکھا
فرمایا
مَا أَنَا عَنْ نَفْسِي بِرَاضٍ فَأَتَفَرَّغُ مِنْ ذَمِّي إِلَى ذَمِّ النَّاسِ إِنَّ النَّاسَ خَافُوا اللَّهَ عَلَى ذُنُوبِ الْعِبَادِ وَأَمِنُوا عَلَى ذُنُوبِهِمْ
میں اپنے آپ سے کبھی راضی نہیں ہوا کہ میں اپنے ذمے سے فارغ ہو کے لوگوں کے ذمے کے پیچھے پڑ جاؤں
لوگ تو دوسروں کے گناہوں پر خوف زدہ اور اپنے گُناہوں پر پر امن ہوتے ہیں
❗ مصنف ابن ابی شیبہ ❗
لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا دوسروں کی آنکھ کا تنکا تک نظر آ جاتا ہے
عقل مند وہ ہے جسے اپنے نفس کی اصلاح لوگوں کے عیوب پر نظر اٹھانے سے روک دے
افسوس ہے اس پر جو خود تو ہزاروں عیوب کا مجموعہ ہو مگر دوسروں کا ایک عیب قبول نہ کر سکتے ہوں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
