طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 114
عربی شاعر نے کہا
إن المعلم والطبيب كلاهما
لا ينصحان إذا هما لم يكرما
حقیقت تو یہ ہے کہ استاد اور طبیب دونوں ہی نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی عزت نہ کی جائے
فاصبر لدائك إن أهنت طبيبه واصبر لجهلك إن جفوت معلما
اگر آپ طبیب کی توہین کریں گے تو اپنی بیماری پر صبر کرنا سیکھ لیں
اور اگر استاذ سے بے وفائی کریں گے تو ہمیشہ جاہل رہنے پر گزارہ کرنا پڑے گا
طبیب ظاہری جسم کی دوا کرتا اور اسے بیماریوں سے بچاتا ہے
جبکہ استاد روح کی بیماری سے بچاتا ہے اور بیمار روح کا علاج کرتا ہے
مگر آج کل لوگ ظاہری جسم کے طبیب کی ہر بات بلا چوں چراں مان لیتے ہیں
اور روح کے طبیب پر اعتراض کرتے ہیں
اسی بیوفائی کی وجہ سے علم سکڑتا جا رہا ہے
طلباء میں دنیاوی علوم کی دلچسپی اور پھر دینی اساتذہ کی بے قدری فقیہانِ اسلام کی تعداد کم ہونے کا ایک سبب ہے
میں نے ایک دہائی سے زائد تدریسی خدمات میں سیکنڑوں طلباء کو پڑھایا سوائے ایک دو کے استاذ کی تعظیم و تکریم پر کوئی پورا اترتا نظر نہیں آیا
مبالغتاً نہیں حقیقتاً ایک دو طالبِ علمِ دین ہیں جو ادب کے تقاضے پورے کرتے ہیں
دینی استاذ نائبِ رسول ہوتا ہے اس کی تعظیم و تکریم روحانی مراتب کے لیئے سب سے اہم ہے
انسان اشرف المخلوقات ہے پھر انسانوں میں علم والے اشرف الانسان ہیں اور ان میں استاذ آپ کے لیئے سب سے اشرف و افضل ہونا چاہیے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
