تم تو میرے دل کی دواء ہو

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 86

حضرت عبد الله بن مسعود کے پاس جب ان کے طلباء آتے تو فرماتے

أنتم دواء قلبي
تم لوگ میرے دل کی دواء ہو

❗الجامع لاخلاق الراوی لخطیب البغدادی ❗

الله الله
علم و عظمت کے پہاڑ سابقین اولین میں سے ایک شہسوار ابن مسعود کا اپنے طلباء کو دل کی دواء کہنا بڑی معنی خیز بات ہے

بہت سے روحانی مراتب علم سکھانے سے طے ہوتے ہیں
جیساکہ شہباز لامکانی غوثِ صمدانی عبد القادر جیلان ی نے فرمایا

درست العلم حتی صِرت قطبا
میں علم کا درس دیتا رہا حتیٰ کہ قطب بن گیا
ولہذا بعض صوفیاء کرام نے فرمایا
جو مؤمن جس علاقے میں سب سے زیادہ علم پھیلاتا ہے اُسے اُس علاقے کا قطب بنا دیا جاتا ہے
رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً
مجھے تو سکھانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے
❗سنن ابن ماجہ ❗
قطب اپنے علاقے میں عوام کی رشد و ہدایت کا کام کرتا ہے اور مُعَلِّم بھی یہی کام کرتا ہے اور علم سکھانے میں مُعَلِّمِ کائنات کے نقشِ قدم پر ہوتا ہے اسی وجہ جلد قطب بنا دیا جاتا ہے
اب یہاں وہ استاذ بھی اپنے آپ کی اصلاح کریں جو طلباء کو تو تکار , اوئے ,ادھر آ , دیکھ وغیرہ غیر مہذب کلمات سے بلاتے ہیں
ابن مسعود طلباء کو دل کی دواء قرار دیں اور آپ دواء کی توہین کریں
بعض اساتذہ کا لہجہ انتہائی گرا ہوا اور غیرِ عالمانہ بلکہ غیر مہذب ہوتا ہے
ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دینِ علوم کے طلبہ کے پاؤں کے نیچے معصوم فرشتے پر بچھاتے ہیں اور آپ ان کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں
تادیبی کاروائی اور تذلیل میں بڑا فرق ہوتا ہے لہذا تادیب کو تذلیل تک نہ لے جائیں
استاذ کے لیئے طلباء بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں
دل کی دواء ہیں, بلندیَ درجات کا سبب ہیں, صدقہَ جاریہ ہیں, دنیا و آخرت میں اپ کی ناموری ہیں لہذا اس نعمت کی تذلیل و تحقیر نہ کریں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top