طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 76
امام اھلِ سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے کہا آپ کیا کہتے ہیں جب میں کسی ایسی مجلس میں ہوں جہاں میرے سوا سنت کوئی نہ جانتا ہو تو کیا میں وہاں کلام کروں؟
امام احمد نے فرمایا
أخبر بالسنة ولا تخاصم عليها
سنت کی آگاہی دو اور اس پر جھگڑا مت کرو
وہ شخص پھر یہی کہنے لگا (مقصد تھا کہ میں بحث و دلیل سے ان کو قائل کروں) تو امام احمد نے فرمایا
ما أراك إلا رجلا مخاصما
میں تجھے جھگڑالو آدمی دیکھتا ہوں
❗الآداب الشریعہ لابن مفلح ❗
یعنی جس شے کی مذمت حدیث پاک میں آئی یعنی قیل و قال و بحث و جدال تم اسی میں جا پڑتے ہو
امام مالک کے فرمان کا معنی بھی یہی ہے کہ لوگوں کو سنت کی خبر دے و بس اگر قبول کر لیں تو ٹھیک ورنہ چپ رہ
ہمارے ہاں کچی ذہنیت کے طالبِ علم تین طرح کے خلافِ شریعت اور موافقِ نفسانیت کام کرتے ہیں
ایک تو بحث و مباحثہ
دوسری چھیڑ چھاڑ
تیسری اپنا عقیدہ تھوپنا
یہ تینوں خسیس کام خارجی فرقہ سے اھلِ سنت کے جوانوں میں محض پچھلے پانچ چھ سالوں میں گھس آئے ہیں
جبکہ اوپر امامین مجتہدین کے فرامین گزرے کہ سنت کے مطاںق عقیدہ سامنے رکھو و بس
ہمیں حکم بلغوا عنی ولو آیۃ کا ہے
( پہنچا دو میری طرف سے خواہ ایک آیت ہی ہو)
نہ کہ سلطوا علیھم (ان پر مسلط کر دو) کا ہے
کوئی مانے نہ مانے مگر حقیقت ہے کہ جس طرح موجودہ برصغیر کے سنیوں میں رافضیت کے جراثیم ہیں ویسے ناصبیت کے جراثیم بھی ہیں
اوپر جو تین بیماریاں ذکر کی ہیں وہ صحابہ و اھلِ بیت کے اعراس پر ظاہر ہوتی ہیں
بدترین بیماری جو اس وقت اھلِ سنت کے جوانوں میں سرایت کر چکی ہے وہ تقابل کی بیماری ہے
اور یہ وہی ہے کہ بحث و مباحثہ٫ چھیڑ چھاڑ٫ اپنا عقیدہ تھوپنا جبکہ اھلِ سنت اھلِ ادب ہیں
علماءِ کرام کے ہاں آپ کبھی تقابل کی فضاء نہیں پائیں گے یہ جاہل خطباء کا طریق ہے
عقیدہ بیان کریں تھوپنا نہیں ہے اور بار بار بیان کرنا چھیڑ چھاڑ ہے اور عقیدے پر قیل و قال جائز نہیں ہے
تقریباً روز ایک سوال مجھ سے ہوتا ہے کہ فلاں رشتے دار یہ وہ گناہ کرتا ہے بار بار سمجھاتے ہیں وہ نہیں مانتے تو کیا کریں ؟
ان کے لیئے مذکورہ فرامین ہیں
نرمی سے نصیحت کریں
عمل کریں تو ٹھیک ورنہ راستہ جدا کر لیں
بار بار کہ کر آگے والے کو زچ نہ کریں اور سے کفر بکنے پر مجبور نہ کریں
آج کل عموماً ایسے ہی ہوتا ہے کہ کسی کو سمجھائیں ایک دو بار وہ سن لیتا ہے مگر بار بار کہے جانے پر وہ کفریہ جملہ بک دیتا ہے
اب سمجھانے والا ذمہ دار ہے یا کہنے والا آپ خود فیصلہ کریں ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
