طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 77
شیخ سعدی جا رہے تھے رستے میں کتے ان پر بھونکنے لگے
شیخ سعدی رکے اور کتوں کو کہنے لگے
میں نے تمہیں کبھی پڑھایا ہے؟
اگر نہیں تو بھونک کیوں رہے ہو؟ اگر پڑھایا ہے تو پھر تمہارا بھونکنا بنتا ہے
کیونکہ طالبِ علم استاذ سے سیکھ کر اسی پر بھونکتا ہے
مذکورہ واقعہ درست ہے یا نہیں مگر فی زمانہ یہ بات سچ سچ لگتی ہے
❗ ہر طالبِ علم ایسا نہیں ہوتا ❗
دستور العلماء میں ولد الزِنا کی تعریف یوں لکھی ہے
ھو المولود من الزنا
وہ جو زنا کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو
اور جو اپنے باپ کا انکار کرے وہ خود کے ولد الزنا ہونے کا اقرار کر رہا ہے
(اسی وجہ سے اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہنا حرام ہے)
اور جو نکاح کے بغیر پیدا ہو وہ ولد الحرام ہے یہاں نکاح سے مراد نکاحِ صحیح ہے
ولد الزنا وہ جو زنا سے پیدا ہو
ولد الحرام وہ جو زنا سے نہیں مگر نکاحِ فاسد وغیرہ سے پیدا ہوا ہو یا حالتِ حیض میں جماع وغیرہ سے پیدا ہو وہ بھی ولد الحرام ہوتا ہے
آگے فرمایا
تو جو آباء میں سے سب سے بہترین باپ یعنی استاذ کا انکار کرے اس کا کیا حال ہوگا؟
استاذ کا انکار صراحتاً کرے یا دلالتاً کرے برابر ہے
مثلاً اس پر طعن و تشنیع کرے
یا استاذ کو ایذا دینے پر مصر رہے
اور استاذ کو بھلائی ملے تو یہ غمگین ہو جائے اور استاذ کو تکلیف پہنچے تو یہ خوش ہو جائے
آگے مذید فرمایا
میں نے ایک سے زیادہ قابل اعتماد علماء کرام سے سنا ہے
من انکر الاستاذ ابتلاہ الله تعالیٰ بثلاث بلیات نسیان ما قرء و ضیق المعیشۃ و زوال الایمان عند الموت
جو استاذ کا انکار کرے الله رب العالمین اسے تین بلاؤں میں مبتلاء کرے گا
جو پڑھا وہ بھول جائے گا
معیشت کی تنگی میں رہے گا
اور موت کے وقت ایمان چھین لیا جائے گا
❗ دستور العلماء جلد 3 صفحہ 324 للقاضی عبد النبی بن عبد الرسول ❗
یہ وعید اس وجہ سے کہ ایسا طالب علم ناشکرا ہے
اور ناشکری کفر ہے کفرانِ نعمت کفر بالله تک لے جاتی ہے
حدیث شریف میں ہے
من لم یشکر الناس لم یشکر الله
جو لوگوں کو شکر ادا نہ کر سکا وہ الله کا شکر بھی ادا نہیں کرے گا
❗ترمذی شریف ❗
اور مخلوق میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے زیادہ شکر گزاری کی حقدار شخصیت استاذ ہوتی ہے
کیونکہ استاذ انسان کو انسان کا مقصد بتاتا سمجھاتا اس پر چلاتا اور راستے کے خطرات سے بچاتا اور طریقے بتاتا ایمان سلامت رکھنے کی تدبیر بتاتا ہے
تو اس سے بڑا محسن کون ؟؟؟
اسی وجہ سے اس عظیم محسن کی ناشکری رب العالمین کے غضب کو دعوت دیتی ہے
لہذا اپنے دینی اساتذہ کو راضی کریں نہ ان کی برائی کریں نہ ان سے برائی کریں نہ کسی کو کرنے دیں
حتی المقدور تحائف وغیرہ سے استاذ کا دل راضی کریں
استاذ بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہوتا ہے
یعنی خود تو بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بناتا ہے
لہذا اس کاریگر کو راضی رکھیں جس نے آپ کو بادشاہ بنایا ہے
ہم آج بھی کسی استاذ صاحب کی کال یا میسج آنے پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ظاہری اعضاء اور ان کے بادشاہ یعنی دل سے تعظیم کرتے ہیں تبھی شاید کچھ حاصل کر لیا ہے
مرد علماء میں اساتذہ کی تعظیم و تکریم کا رواج کچھ حد باقی ہے مگر طالبات میں نہ ہونے کے برابر ہے شاید اسی وجہ سے اِن میں علوم و فنون کی وہ پختگی نہیں ہو پاتی جو مَردوں میں ہوتی ہے
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں
علمِ دین بقدرِ ادب ملتا ہے بقدرِ محنت و بقدرِ ذہانت نہیں ملتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
