طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 73
عباسی دور میں علماء و فقہاء کی تنخواہیں سن کر بندہ حیران رہ جاتا ہے
مؤذن کی تنخواہ ایک ہزار سونے کے سکے سالانہ تھی
یاد رکھیں ایک سونے کا سکہ تقریباً چار ماشے کا اور 250 سونے کے سکے ہوں تو ایک کلو بنتا ہے
اس لحاظ سے تقریباً چار کلو سونا ایک اذان دینے والے مؤذن کی تنخواہ تھی یعنی آج کے آٹھ کروڑو کے قریب
قرآن کریم سکھانے والوں کی تنخواہ دو ہزار سونے کے سکے
اور علماء و فقہاء کی تنخواہ چار ہزار سونے کے سکے سالانہ تنخواہ تھی یعنی ایک سال میں تقریبا بیس کروڑ سے زائد تھی
( النفقات و اداراتھا فی الدولۃ العباسیہ للضیف الله یحیی الزھرانی )
یہی وجہ تھی وہ دور سنہرا دورِ اسلام کہلاتا تھا جب علماء و فقہاء اس قدر معزز تھے کیوں نہ ہوں جنہوں نے حکومت و حکام کو چلانا ہے جنہوں نے آخرت کی طرف لے جانا ہے وہ کیوں نہ اس قدر عزت افزائی کے مستحق ہوں
بغداد میں بیت الحکمت ہو یا مدرسہ نظامیہ سائنس دان علماء تبھی تیار ہوتے ہیں جب فکرِ معاش سے آزاد رکھے جائیں
آج نظام الٹ کر دیا گیا
کروڑوں کے گھپلے بیوروکریٹ و سیاست دان کریں کھربوں کی کرپشن گورنمنٹ محکمے کے لوگ کریں اور ملک کی تنزلی کا الزام علماءِ اسلام کے سروں پر دھر دیں
جمہوری نظامِ حکومت اور میکالے کا نظامِ تعلیم اسی وجہ سے مسلط کیا گیا ہے تاکہ دجالی نظام کی حوصلہ افزائی اور دینی نظام و تعلیم کی حوصلہ شکنی کی جائے
نوکریاں و مراعات انہی کو دی جاتی ہیں جو جمہوری غلاظت کو چاٹتے اور میکالی تعلیم کو پیتے ہیں
مگر آفرین ہے ان ماں باپ پر جو مادیت کے اس دور میں اور پیسے کی دوڑ میں بچوں کو دینی تعلیم دلواتے ہیں اور یقین سے بیٹھتے ہیں کہ جس رب کا دین پڑھ رہے ہیں وہی دولت و عزت دے گا
یہی وجہ ہے کھرب پتی مالدار حتی کہ وزیر اعظم بھی ہو تو اس کے منہ پر تعریف اور پیٹھ پیچھے گالیاں دی جاتی ہیں
مگر محلے کے امام اور عالمِ دین کے ہاتھ چومے جاتے ہیں اور ان کو دعاؤں کا کہا جاتا ہے
ہارون رشید نے بھی یہی کہا تھا
اصل بادشاہ تو یہ علماء ہیں
ہماری عزت تو ہمارے خوف سے کی جاتی ہے
علمِ دین حاصل کریں دین و دنیا میں معزز ہوں گے
مال کی طلب میں نہ کریں نہ عزت کی خواہش میں کریں رضائے الٰہی کے لیئے کریں وہ اتنا نوازے گا کہ تاحشر کام و نام باقی رہے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
