مخنث علماء

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 54

شیخ احمد الزھاوی عراق کے بہت بڑے عالم تھے
انہوں نے فرمایا
إن العالم الإسلامي يحترق وعلى كل منا أن يصب ولو قليلاً من الماء ليطفئ ما يستطيع أن يطفئه دون أن ينتظر غيره

عالَمِ اسلام جل رہا ہے تو ہم میں سے ہر ایک پر فرض ہے حسبِ طاقت پانی بہا کر آگ بجھائیں
کسی دوسرے کا انتظار نہ کریں!
علماء کا آگ بجھانا اختلافی موضوعات عوام میں بیان نہ کرنا
عوام کا آگ بجھانا فرائض و واجبات سیکھنا,اور عقائد کی ابحاث میں نہ پڑنا ہے

علمِ کلام یعنی عقلی دلائل سے عقائد ثابت کرنا تمام مقتدمین اور جمہور امت کے ہاں مذموم ہے
اور دینی عقائد میں قیل و قال, اعتراض و سوال, بحث و جدال اسلاف کے ہاں حرام ہے
صرف غیر مسلم فلاسفہ کے رد میں عقلی دلائل سے عقائدِ اسلام ثابت کرنے کی اجازت ہے
مسلمانوں کو بحث کی اجازت نہیں آمنا و صدقنا بس!
مگر غربتِ اسلام کا دور ہے
علماء اختلافی ابحاث عوام کو بتاتے ہیں اور عوام اس پر جھگڑا کرتی ہے
° اس وقت کثیر فتنوں کا سب سے بڑا سبب خواص کی باتیں عوام تک لانا ہے °
عوام کو ویڈیو آڈیو کی صورت کسی باطل کا رد پہنچے گا تو تجسس کریں گے اور نا معلوم کو معلوم کرنے کی کوشش کریں گے
پھر کچھ گمراہی کی کھائی میں گرتے ہیں اور کچھ مناظرہ کا میدان لگاتے ہیں
اور میرے خیال میں عوام میں فتنے کا دوسرا بڑا سبب عربی و فارسی کتب کے تراجم کرنا ہے
کیونکہ اردو داں طبقہ جس نے مستند علماء کے سامنے جھک کر علم حاصل نہیں کیا وہ مترجم کتاب خرید کر پڑھ کر خود ساختہ مفتی مجتہد بن بیٹھتا ہے
اور پھر علماء کو برا کہتا ہے
ترجمہ کرنے کا ایک نقصان طلباءِ علمِ دین کا بھی ہوا کہ ان میں عربی پڑھنے کی صلاحیت بیکار ہو کر رہ گئی
استاد و ادب کے بغیر علم ہیجڑا ہوتا ہے اور ایسے علم سے متصف شخص بھی علماءِ مرداں میں ہیجڑا ہوتا ہے
فی زمانہ ایسے ہیجڑے علماء کی کثرت ہے

سیدی ابو عمر الزجاجی نے فرمایا
••• اگرچہ آدمی پر غیب کے دروازے کھول دیئے جائیں جب تک اس کا استاد نہ ہوگا اس آدمی سے کچھ فیض نہیں حاصل کیا جا سکتا •••
سیدی ابو مدین مغربی فرماتے ہیں
من لم یاخذ ادبہ من المتادبین افسد من یتبعہ
جو ادب یافتہ سے ادب نہ سیکھے وہ اپنے متبعین کو خراب کر دے گا
(الفتوحات الالہیہ لابن عجیبہ)

یعنی جو استاد سے علم و ادب نہ سیکھے وہ فاسد علم والا ہے اور جو اس کے قریب جائے گا یہ اسے بھی تباہ کر دے گا

اور گوگل ٹرانسلیٹر نے پھر گوگل سرچ بار نے ایسوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے
اور صدہا معذرت سے ایسے ہیجڑے پیدا ہونے کے مواقع بعض علماء نے خود دیئے جب انہوں نے کتابوں کے تراجم کر دیئے!
اور انہی مخنثین کی وجہ سے امت میں افتراق و انتشار ہے
° صحیح العقیدہ سنی عالم کا اچھی نیت سے ترجمہ کرنا ممکن ہے اور ہوا بھی ہے مگر مجموعی طور پر اس کا نقصان سامنے ہے °
الغرض جنہوں نے آگ بجھانی تھی وہی لگا رہے ہیں

آگ دی باغباں نے جب مرے آشیانے کو
جن پی تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top