طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 37
کونسے مشاغل علمی مشاغل سے دور رکھتے ہیں ؟
حسن التنبہ میں علامہ نجم الدین الغزی نے بیان فرمایا
ابو عبد اللہ التلمسانی سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے جتنی تصینف و تالیف اس امت نے کی, کسی اور امت نے کیوں نہیں کی ؟
فرمایا,
یہ شراب حرام ہونے کے فائدے ہیں
یعنی امم سابقہ میں شراب جائز تھی تو لوگ پیتے اور اس کے نتائج یعنی نشہ وغیرہ کی وجہ سے علمی تصنیفی و تالیفی کام سے دور رہتے تھے
اور اس امت میں شراب حرام ہے تو علماء و فقہاء و مورخین نے خوب علوم جمع کیئے
اممِ سابقہ و موجودہ کی تصنیف و تالیف ایک طرف اور مسلمانوں کی تصنیف ایک طرف پھر بھی مسلمانوں کی کتب زیادہ ہیں
سقوطِ بغداد اور سقوطِ اندلس میں لاکھوں کتب ضائع ہو گئی ہیں
اور جو اس وقت بھی مخطوطات کی صورت ہے وہ بھی کثیر ہیں
°°° میں سوچ رہا تھا کہ اس امت نے حرام شراب سب امتوں سے کم پی ہے مگر شرابِ معرفت سب امتوں سے زیادہ پی ھے °°°
اور شراب طہور بھی سب سے زیادہ پینے والی ہماری امت ہے
شرابِ حرام تو انگور کے کچے پانی سے کشید کی جاتی ہے اور جام سے پلائی جاتی ہے جبکہ شرابِ معرفت پختہ ایمان سے بنائی جاتی اور نظروں سے پلائی جاتی ہے
طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینے میں چھپائی جاتی ہے
توحید کی مے ساغر سے نہیں آنکھوں سے پلائی جاتی ہے
اور شرابِ طہور کس سے بنی ہے جب جام سے جام ٹکرائیں گے تو ہم بھی جان جائیں گے
اللہ رب العزت ہمیں شرابِ حرام سے بچائے شرابِ معرفت پلائے اور شرابِ طہور کے جام عطاء فرمائے
معلوم ہوا نشہ علم کی نشر و اشاعت سے مانع ہے خواہ وہ کسی قسم کا نشہ ہو
لہذا فضولیات کا نشہ ترک کریں
کرنے والے کام کریں ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جائیں گے
کھیل کود , جمعِ مال , ھوائے نسواں , سوشل میڈیا , کثرتِ اکل و شرب و نوم یہ ایسے نشے ہیں جو علمی مشاغل سے بہت دور کر دیتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
