طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 31
°°° ہمارے دار الافتاء والے بھی بو سونگھ لیتے ہیں °°°
البیان والتبین میں جاحظ نے لکھا
عبد الملک بن مروان کو کہا گیا
عجل عليك الشيب يا أمير المؤمنين
امیر المومنین آپ پر بڑھاپا جلدی آگیا ہے
کہا
وكيف لا يعجل عليّ وأنا أعرض عقلي على الناس في كل جمعة مرة أو مرتين
مجھ پر بڑھاپا کیسے نہ آتا, جبکہ میں ہفتہ میں ایک یا دو بار لوگوں کے سامنے اپنی عقل پیش کرتا ہوں
یعنی خطبہِ جمع دیتا ہوں اور دوسرے معاملات میں لوگوں کو جمع کر کے کلام کرتا ہوں
یہ حال ہوتا ہے باشعور انسان کا کہ لوگوں سے خطاب کرنا گویا اپنی عقل پیش کرنا اپنی زندگی کا نچوڑ پیش کرنا اس خوف سے اچھی خاصی تیاری کرنا پڑتی ہے
اور یہ خوف انسان کو بوڑھا کر دیتا ہے
° عقل کو عقل اس لیئے کہتے ہیں کہ اس کا معنی باندھنا ہے کیونکہ عقل انسان کو فضول باتوں اور اغلاط وغیرہ سے باندھ رکھتی ہے اسی لیئے اسے عقل کہتے ہیں °
مگر فی زمانہ شاید کم ہی لوگوں کے پاس عقل ہے جو اِن کو باندھ رکھے جنگلی جانوروں کی طرح جو دماغ میں آتا ہے بکتے چلے جاتے ہیں
عقل کو لُباب بھی کہتے ہیں یہ لُبّ سے ماخوذ ہے جس کا معنی نچوڑ ہے
اس لحاظ سے آج کل کے لوگوں کی اپنی زندگی, تجربے, علم کا نچوڑ ہے ہی نہیں
یہ سوشل میڈیا,گوگل,غیر مستند سنی سنائی باتوں کو تحقیق سمجھ کر محقق بنے ہیں
یعنی ان کی زندگی کا نچوڑ نہیں ہے سوشل میڈیا کا نچوڑ ہے
اور یہ نچوڑ زہرِ ہلاہل ہے تریاق شہد نہیں ہے
ہر کم عقل احمق ویڈیو کلپ بنا کر شیئر کرتا ہے
یوٹیوب چینل بنا کر علم کے موتی بکھیرنے کی کوشش کرتا ہے مگر حیرانی ہے بوڑھا پھر بھی نہیں ہوتا کوئی
اصل بات تو یہ ہے کاپی پسیٹر یا مواد چور کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی جبکہ ذی علم اسی سوچ میں رہ جاتا ہے کہ یہاں غلطی نہ ہو جائے وہاں غلطی نہ ہو جائے
اگر ہر مقرر ہر محرر اپنے اوپر یہ لازم کر لے کہ ماخذ و بنیادی کتاب سے پڑھ کر بیان کرے یا لکھے گا تو فتنے کم ہو جائیں گے
مگر عرف یہ ہے کہ ہر سنی سنائی یک طرفہ بات پر حکم صادر کیا جاتا ہے
اب تو حالت یہ ہے جس کا مشاہدہ بھی ہے اور تجربہ بھی ہے دار الافتاء والے تک یک طرفہ سن کر فیصلے کرتے ہیں
دار الافتاء والے بھی جذباتی ہو جاتے ہیں ان کو بو آ جاتی ہے
مثلاً رافضیت کی بو آتی ہے
جبکہ اصول مقرر ہو چکا لازمِ مذہب مذہب نہیں ہوتا مگر یہ کیسے مفتیانِ مجانین ہیں جن کو بوئیں آنا شروع ہو جاتی ہیں
جب اربابِ قلم و افتاء کا یہ عالم ہے تو طلباء کی کیا حالت ہوگی ؟
° یہ ایسے نا اھل و شترِ بے مہار ہیں کہ ایک کمنٹ یا غیر مصدقہ افواہ پر کسی کے دین پر طعن کرنا شروع کر دیتے ہیں ° جبکہ وہ بندہ زندہ ہوتا ہے کسی میں اخلاقی و علمی جرت نہیں ہوتی کہ بلا واسطہ خود بات کر کے صاحبِ معاملہ سے پوچھ سکیں
واقعی ایسوں کے ہاتھ میں قلمِ افتاء بندر کے ہاتھ ماچس والی بات ہے جس سے وہ جنگل کو آگ لگا دے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
