تصوف_وصوفیاء 33
کفر پر خاتمہ کیوں ہوتا ہے؟
سیدی وھب بن منبہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ
اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے
انما یوزن من الاعمال خواتیمھا و اذا اراد الله بعبد خیرا ختم لہ بخیر عملہ و اذا اراد بہ شرا ختم لہ بشر عملہ
اعمال میں ان کا وزن کیا جو آخری ہیں
جب اللہ رب العزت بندے سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا عمل خیر پر ختم فرماتا ہے
اور جب بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس کا عمل شر پر ختم فرماتا ہے
❗ حلیہ الاولیاء جلد 3 صفحہ 179 ❗
یعنی موت کے قریب جو عمل کرتا ہے اسی کے مطابق اس کی آخرت طے ہو جاتی ہے
مگر مگر مگر
اس شیطانی بھنور سے باہر آئیں کہ بڑھاپے میں نیک عمل کرنا شروع کر دیں گے
پہلی بات
یہ ہے کہ کیا یقین بڑھاپا آئے گا
اچھے خاصے چلتے پھرتے نوجوان یوں مر جاتے ہیں گویا زندہ تھے ہی نہیں
جان لیوا مرض اور حادثے ہوتے ہیں
دوسری بات
حافظ ابن رجب حنبلی نے فرمایا
برا خاتمہ خفیہ شر کی وجہ سے ہوتا ہے
یعنی بندہ ساری زندگی اپنے اندر کوئی بری خصلت کوئی جرم اندر رکھتا ہے تو موت کے وقت وہی ظاہر ہو جاتا ہے
اسی وجہ سے علماء کرام نے فرمایا کہ مسلمانوں کے لیئے دل میں بغض پالنا کفر پر موت کا سبب ہے
مذکورہ سب باتوں کی عام انداز میں وضاحت یہ ہے کہ انسان زندگی بھر بناوٹ و ریاکاری مفاد پرستی اور مطلب و غرض کی وجہ سے اندر کا شر ظاہر نہیں کرتا
مگر موت کے وقت بناوٹ و ریاکاری نہیں کر سکتا تو اندر کا شر غالب آ جاتا ہے اور بندہ بغیر کسی کے کہے یا کسی دباؤ کے بغیر وہ باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے جو اس کے باطن میں چھپی ہوتی ہیں اور اس حالت میں موت اجائے تو وہی آخری عمل فیصلہ کن شمار ہوتا ہے
مثلاً ایک بندہ مرتے وقت چیزوں کی بولی لگانے لگا کیونکہ وہ آڑھتی تھا
ایک بندہ آخری وقت میں گانا گانے لگا
ایک بندہ آخری وقت میں گالیاں بکنے لگا
ایک بندہ آخری وقت میں قران و حدیث کا انکار کرنے لگا
کیونکہ ان کے دلوں میں زندگی بھر یہی اشیاء تھیں تو وقت آخر بغیر ان کے چاہے ان کے مونہوں سے یہ نکلنے لگا
ایک خوشبخت آخری وقت میں الصلوۃ و السلام علیک یا رسول اللہ پڑھنے لگا
ایک خوش نصیب
آخری لمحات میں پکارنے لگا یا رسول اللہ میں آپ کا امتی ہوں آپ میرے ایمان کے گواہ ہو جائیں
کیونکہ زندگی بھر ان کے باطن میں خیر تھی تو آخری وقت میں ان کے چاہے بغیر خیر ظاہر ہوگئی
لہذا اپنے اندر خیر جمع کریں
بغض و کینہ نفرت و حسد گالم گلوچ و بازاری زبان غرور و تکبر سے دل کو پاک رکھیں
زبان کو ذکر خدا و ذکر رسول سے تر رکھیں
دل کو یادِ الہی سے آباد رکھیں
تاکہ آخری وقت میں بلا اختیار ذکر و اذکار زبان سے جاری ہو جائیں
حدیث پاک میں ہے
من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ
جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا
کلمہ طیبہ کی کثرت کیا کریں کیونکہ لوگ جو کام اکثر کرتے ہیں
جو بات اکثر بولتے ہیں آخری وقت میں وہی بات منہ سے نکلتی ہے
ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں
ایک شخص آخری وقت میں گانا گانے لگا کیونکہ وہ گانے سنتا تھا
ایک بندہ آخری وقت دو دو چار اور اتنے اتنے مل کر اتنے ہوئے یعنی جمع تفریق کرنے لگا کیونکہ ساری زندگی بازار میں تجارت کرتا رہا
دن میں بے شمار بار کلمہ طیبہ پڑھا کریں درود پاک پڑھا کریں
جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضاء آئی ہے
°°° انسان پر دنیا و آخرت میں سب سے مشکل ترین اور قیمتی ترین لمحہ نزع کا وقت ہوتا ہے °°°
آخری وقت ایمان سلامت رہا تو ہر طرح سے خیر ہے
اور اسی آخری وقت میں شیطان اپنا سب زور لگا دیتا ہے تاکہ ایمان چھین لے جائے
لہذا اپنے ارد گرد ابھی سے کلمہ طیبہ کا حصار مضبوط کرنا شروع کریں تاکہ دشمن اس کے قریب بھی نہ آسکے اور ہم اپنا ایمان سلامت لیکر آگے روانہ ہوں
حدیثِ قدسی ہے
لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے جو اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا
تو کثرت سے اس مبارک کلمے کا ورد کریں
اللہ ربّ العزت میرا اور آپ کا خاتمہ ایمان پر فرمائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
