موت کے وقت ماتھے پر پسینہ

تصوف_وصوفیاء  32

ابراھیم بن ہانی اپنے وقت کے بہت بڑے عابد و زاہد تھے 
حتی کہ امام احمد بن حنبل بھی انکی عبادات کی کثرت کر تعجب کا اظہار کیا کرتے تھے فرماتے کہ جو طاقت ان کو نصیب ہے ہمیں وہ نصیب نہیں ہے 

بوقت وصال شدید پیاس لگی پانی منگوایا پھر پوچھا
سورج غروب ہوگیا ہے؟
کہا گیا
ابھی نہیں
انہوں نے پانی واپس کر دیا کہ اور یہ آیت کریمہ پڑھی
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ
اسی کی مثل عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیئے

ابھی افطاری کا وقت نہیں ہوا تو ان کا اسی روزے کے آخری لمحات میں انتقال ہوگیا
امام مجاہد فرماتے ہیں   مذکورہ آیت جنت میں جنتیوں کا کلام ہوگا
یعنی جب جنتی نعمتوں کو دیکھیں گے اور وہاں موج مستیاں کریں گے تو یہ کہا کریں گے
موت کے وقت ماتھے پر پسینہ آ جانا اچھی موت کی نشانی ہے 
حدیثِ مبارکہ میں ہے
••• الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ •••
مومن ماتھے کے پسینے
کے ساتھ مرتا ہے
(ترمذی)
یعنی وقت موت ماتھے پر پسینہ مومن کی نشانی ہے
یاد رکھیں وقتِ نزع مومن کو مشقت آنا اس کے لیئے نہایت مفید ہے 
روایت میں نزع کے وقت انسان کو اتنی پیاس لگتی ہے کہ سمندر پانی کا پی لے تو پیاس نہ بجھے

آخری وقت میں مشقت و تکلیف کی زیادتی گناہ کی نشانی نہیں ہوتی بلکہ گناہ مٹنے کا سبب بن جاتی ہے 

بلکہ ایک روایت میں ہے
دو فرشتے تیزی سے جاتے ہوئے ملے پوچھا کہاں جا رہے ہو
ایک نے کہا ابھی ایک کافر کا آخری وقت ہے اور اس کو مچھلی کھانے کی خواہش ہے تو مجھے حکم ہوا کہ ابھی اس کو مچھلی پہنچاؤں کیونکہ اس نے زندگی میں کوئی نیکی کی تھی جس کا بدلہ یہاں دنیا میں ہی دے دیا جائے

دوسرے سے پوچھا
تم کہاں جا رہے ہو
کہا ایک بندہ مومن آخری وقت ہے اور اس کو شدید پیاس لگی ہے اس کا خادم پانی لیکر اس کے پاس کھڑا ہوا ہے مجھے حکم ہوا ہے کہ وہ گلاس گرا دوں تاکہ اس کی روح پیاس کی حالت میں قبض کی جائے  کیونکہ اس بندہ مومن کا ایک گناہ باقی ہے تو اللہ ربّ العزت چاہتا ہے یہ پیاس اس کے گناہ مٹنے کا سبب بن جائے

اللہ رب العزت ہماری موت سے پہلے ہمارے گناہ معاف فرما دے اور اپنے کرم سے عافیت والی موت عطاء فرمائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top