خشوع و خشیت میں فرق

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 7

علامہ میر سید شریف جرجانی فرماتے ہیں
تالم القلب بسبب توقع مکروہ فی المستقبل یکون تارۃ بکثرۃ الجنایۃ من العبد و تارۃ بمعرفۃ جلال اللہ و ھیبتہ
وخشیۃ الانبیاء من ھذا القبیل

{کتاب التعریفات للجرجانی }

خشیت مستقبل میں کسی ناپسند شے میں گر جانے کی وجہ سے دل میں درد اٹھنا
کبھی تو بندے کی طرف سے گناہوں کی کثرت سے پیدا ہوتی ہے
اور کبھی اللہ رب العزت کی ہیبت و جلال کی معرفت کی وجہ سے یہ خشیت پیدا ہوتی ہے
اور انبیاء کرام کی خشیت دوسری قسم والی ہے
خشوع و خضوع و تواضع
سب کا ایک ہی معنی ہے
اھلِ حقیقت کی اصطلاح میں خشوع حق کے لیئے جھک جانے کا نام ہے
ایک قول میں دل میں دائمی خوف کا نام خشوع ہے
° خشوع کی یہ علامت ہے ° کہ بندہ جب غصے میں ہو یا اس کی مخالفت کی جائے یا اس کا رد کیا جائے تو وہ خوش دلی سے قبول کرے
{التعریفات }
اللہ رب العزت ہمیں حقیقی معنی میں خشوع و خضوع رکھنے والا اور حقیقی خشیت والا بنائے
قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علماء ہیں

علم زیادہ خشیت پیدا کرتا ہے
تقوی اللہ رب العزت سے ڈرنے اور برے کاموں سے بچنے کا نام ہے جبکہ خشیت عظمت و جلالت کی وجہ سے ڈرنے کا نام ہے
° لہذا خشیت علماء میں سے بھی عارف علماء کی صفت ہے °
تو جو جتنا بڑا عالم ہوگا اس میں خشیت اتنی ہوگی وہ بڑا متقی ہوگا اور جو بڑا متقی ہے وہ زیادہ مقربِ الٰہی ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top