ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن کونسا تھا

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 6

°°° حُس٘ن کی کتنی اور کونسی اقسام ہیں °°°

جمیل و صبیح و ملیح میں فرق ہے
یہ تینوں حسن ظاہری کے درجات ہیں

اولاً حسن کی تعریف سمجھ لیں
ابن حزم ظاہری نے کہا
الحسن ھو شی لیس لہ فی اللغۃ اسم یعبر بہ غیرہ و لکنہ محسوس فی النفوس باتفاق من راہ
حسن وہ شے ہے کہ لغت (ڈکشنری) میں کوئی اسم نہیں جو اسے بیان کر سکے
ہاں مگر دیکھنے والے اپنے دلوں میں اس کو محسوس کر لیتے ہیں
خزانة الأدب میں ہے
° جمیل وہ ہے جو دور سے تو تمہاری نگاہ کو جکڑ لے مگر جب نزدیک آئے تو ویسا نہ ہو جیسا دور سے محسوس ہوا تھا °
یعنی دور سے حسین نظر آنے والا جمیل ہے
ملیح وہ جو جتنا قریب آئے حسن میں بڑھتا جائے
یعنی دور سے حسین نہ لگے مگر نزدیک سے حسین ہوتا جائے
اس کا مطلب ہے دور سے حسین ہو مگر قریب سے زیادہ حسین ہو!
ملیح ملح سے ماخوذ ہے جس کا معنی نمک ہے
تو جیسے کھانے میں نمک نہ ہو تو کھانا بے ذائقہ ہوتا ہے ویسے ہی حسن میں ملاحت نہ ہو حسن بے مزہ ہوتا ہے

ملیح کو ہماری زبان میں گندمی یا سانولا کہتے ہیں • تفسیر روح البیان میں ہے
ان الحسن بمعنی بیاض البشرۃ مختص بیوسف علیہ السلام و ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اسمر اللون لکن مع الملاحۃ التامۃ
حسن جبکہ سفید رنگت کے طور پر ہو تو وہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے جبکہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گندمی رنگ کے تھے ساتھ میں تام ملاحت بھی رکھتے تھے الفروق اللغویة میں ہے
صباحت چہرے کا چمکدار ہونا اور جلد کا صاف و شفاف ہونا ہے
حسنِ صبیح صبح سے ماخوذ ہے اور صبح لوہے وغیرہ کی چمک کو کہتے ہیں
اور صبح کو صبح اس لیئے کہتے ہیں کیونکہ وہ روشن چمکدار ہوتی ہے
°°° چہرے کا انتہائی سفید ہونا حسین ہونے کو مستلزم نہیں ہے بہت سے سفید چہرے والے بد صورت ہوتے ہیں °°°
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا
البیاض نصف الحسن
سفیدی آدھا حسن ہے
لہذا سفید رنگت والے آدھے حسین ہوسکتے ہیں مگر ملیح نہیں
اور ملاحت یہ ہے کہ انسان مجموعی مٹھاس سے متصف ہو اگرچہ تفصیلی حسین نہ ہو
یعنی ملاحت بغیر کسی وجہ کے مطلقاً حسین نظر آنے کا نام ہے اگرچہ چہرے کی تفاصیل یعنی آنکھ, کان ناک وغیرہ میں کامل حسن نہ ہو
المفردات فی غریب القرآن میں ہے
ملاحت ایسے حسن کا نام ہے جس کا ادراک مشکل ہوتا ہے.
یعنی بلا وجہ وہ حسین لگتا ہے
الاخلاق و السیر میں ہے
باریک خوبیوں , لطیف حرکات , خفیف اشارات اور دِلوں کا کسی صورت کو قبول کر لینے کا نام ملاحت ہے اگرچہ اس صورت میں ظاہری یہ خوبیاں نہ ہوں حسن کی ان تینوں اقسام میں باتفاقِ عقلاء و علماء حسن ملیح سب سے زیادہ بہترین اور پسندیدہ ہے ہمارے آقا و ملجا حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے حسن کی تینوں اقسام عطاء فرمائی ہیں
حضور جمیل ایسے کہ اجمل منک لم تلد النساء
ان صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال ایسا کہ دور و نزدیک سے باکمال ہے
ان کی صلی اللہ علیہ وسلم کی صباحت ایسی ہے کہ محض سفیدی و چمک نہیں بلکہ دل موہ لینے والا نور ہے
خصائص کبریٰ میں حدیث پاک ہے
ان نبیکم صبیح الوجہ کریم الحسب وحسن الصور
تمہارے نبی صبیح چہرے والے اعلی نسب والے اور اچھی آواز والے ہیں
ان صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاحت کی تو کیا ہی بات ہے امام اھل سنت نے فرمایا
حسن کھاتا ہے جن کے نمک کی قسم
وہ ملیحِ دل آراء ہمارا نبی

یعنی ایسا حسن کہ حسن بھی اس کی قسم اٹھاتا ہے

دوسری جگہ کہتے ہیں
ان کے حسنِ باملاحت پر نثار
شیرہِ جاں کی حلاوت کیجے

یعنی ان کے نمکین حسن پر اپنی جان کی مٹھاس قربان کر دیں

ایک اور جگہ ارشاد کیا
ذِکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو
نمکین حسن والا ہمَارا نبی

جب تک ان کے نمکین حسن کا ذکر نہ ہو تمام ذکر پھیکے رہتے ہیں
وہ صلی اللہ علیہ وسلم دور و نزدیک سے اجمال و تفصیل سے ہر طور پر حسین و جمیل ہیں
وہ صلی اللہ علیہ وسلم صبیح بھی ہیں جمیل بھی ہیں اور ملیح بھی ہیں
اولین و آخرین کے حسن و جمال سے بڑھ کر حسن و جمال رکھتے ہیں
اُن کے حسنِ کامل کی ایک جھلک دیکھنے پر جان چلی جائے تو سودا سستا ہے
✍🏻#سید مہتاب_عالم

Scroll to Top