مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 4
علامہ اسم مبالغہ کا صیغہ ہے
یعنی بہت زیادہ جاننے والا
عالم جاننے والا اعلم کسی کے مقابلے میں زیادہ جاننے والا اور علام مطلقا زیادہ جاننے والا
تاج العروس میں ہے
علام کے آخر میں ۃ مبالغہ کے لیئے ہے یوں یہ علامہ بن گیا
اور لفظ علامہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیئے برابر استعمال ہوتا ہے
کہا جاتا ہے
رجل علامہ امرءۃ علامہ اس کے آخر میں ۃ لگاتے ہیں تاکہ ظاہر کیا جائے کہ یہ عِلم میں انتہاء کو پہنچ چکا ہے.
اھم بات
اللہ رب العزت کی ذات کے لیئے علام بولا جاتا ہے علامہ بولنا جائز نہیں ہے اگرچہ اس میں ۃ مبالغہ کے لئے ہے
اس کی دو وجہیں ہیں
اول کہ اس میں ۃ اگرچہ مبالغہ کے لیئے مگر تائے تانیث سے مشابہت ہے
اور اللہ رب العزت کی ذات و صفات و اسماء و افعال میں مخلوق سے مشابہت پیدا کرنا جائز نہیں ہے
دوم اللہ تعالیٰ کی ذات مبالغہ آرائی سے پاک ہے مبالغہ وہاں ہوتا ہے جہاں حد سے تجاوز کیا جائے جبکہ رب العالمین کی ذات حد و حدود سے پاک ہے
اس کا علم حدود کی قیود سے پاک ہے.
تفسیر ماوردی میں ہے
عالِم اور علَّام میں دو طرح فرق ہے
اول
علام وہ جس کا علم قدیم ہو اور عالم وہ جس کا علم حادث ہو
دوم
علام ہو جو ماکان و ما یکون (جو ہوچکا جو ہونے والا) کو جانتا ہو
اور عالم وہ جو ماکان (جو ہوچکا) کو جانتا ہو مایکون (جو ہونے والا ہو) نہ جانتا ہو
یاد رکھیں ہر عالم علامہ نہیں ہوتا ہر علامہ عالم ہوتا ہے
علامہ جامع المعقول و المنقول ہوتا ہے
[یعنی عقلی و نقلی علوم کا ماہر ہوتا ہے]
رواج بن گیا ہے ہر فارغ التحصیل علامہ کہلانے لگا ہے جبکہ عموماً بیچارہ عالم بھی نہیں ہوتا
میں اپنی زندگی میں ایک ہستی کو کُھلے سینے سے علامہ کہتا مانتا ہوں وہ ہیں اشرف سیالوی صاحب اشرف العلماء ہیں علامہ ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
