تمنا نہیں سوال کیجئے

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 3

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ-وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ-وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ
مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا
اور تم ا س چیز کی تمنا نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے مردوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے اوراللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے

مقامِ غور ہے کہ اللہ رب العزت نے پہلے تمنا کرنے سے منع فرمایا پھر سوال کرنے کا حکم دیا

سوال پیدا ہوتا ہے کہ
تمنا کرنے اور سوال کرنے میں کیا فرق ہے؟

امام قشیری تفسیر قشیری میں ارشاد فرماتے ہیں
تمنا کسی شے کو رب العزت سے غافل ہو کر چاہنا ہے کہ آپ کا دل کسی شے کے حاصل ہونے کا تقاضا کرتا ہے جبکہ وہ شے اللہ سے ملنے کی توقع نہیں کرتا
یعنی یوں کہا جاتا ہے کاش یہ ہو جاتا
کاش یہ شے مل جاتی
تو اس میں اللہ رب کا ذکر نہیں نہ رب العزت سے مانگنے کی طرف اشارہ ہے
جبکہ سوال میں یقینی طور پر اللہ رب العزت کا ذکر کیا جاتا ہے
بڑا نفیس نکتہ ہے یاد رکھیں

دوسرا فرق یہ ہے کہ سائل سوال میں اپنے استحقاق کا مدعی نہیں ہوتا بلکہ عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوتا ہے
جبکہ تمنا میں اپنے استحقاق کا دعویٰ ہوتا ہے
کہ کاش مجھے مل جائے یعنی میں اس کا مستحق ہوں
اللہ رب العزت نے تمنا سے منع کیا اور سوال کو مباح کیا ہے تو تمنا نہ کریں سوال کریں
صوفیاء کہتے ہیں کہ
عطاء کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ جل جلالہ سے اس کے فضل سے اسکی رضا کا سوال کرو
تمنا کرنا کمزور ایمان کی نشانی ہے تمنا کرنا غیر مستحق شے کا تقاضا ہے
اور سوال کرنا عاجزی و انکساری والا کام ہے
لہذا تمنا نہیں سوال کیجئے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top