اللہ تعالیٰ دشمن کے منہ سے امیر معاویہ کی تعریف کرواتا ہے

تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 4

صحابہ کرام کی طرف سے امیر معاویہ کافی ہوئے

واللہ امیرِ شام کتنا پیارا لقب ہے جسے کم بخت تحقیراً استمعال کرتے ہیں

وہ شام انبیاء کرام علیھم السلام کی سر زمین ہے
وہ شام محشر قائم ہونے کی زمین ہے

تفسیر طبری میں زیرِ آیت
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا
حدیث پاک بیان فرمائی
کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملکِ شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا
هاهُنا تُحشَرونَ هاهُنا تُحشَرونَ هاهُنا تُحشَرونَ ثَلاثًا رُكبانًا ومُشاةً وعلى وُجوهِكم
یہاں سے تم اٹھائے جاؤ گے تین بار فرمایا
کوئی سواری پر ہوگا کوئی پیدل کوئی منہ کے بل اٹھایا جائے گا

یعنی محشر کی زمین کے بادشاہ امیر معاویہ ہیں

اور محشر کی زمین سے کامیاب جنت میں وہی جائے گا جو اس زمین کے مالک سے محبت کرتا ہوگا
ورنہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا

وہاں ہمشیہ چالیس ابدال ہمشیہ رہتے ہیں
مسند احمد کی حدیث پاک میں ہے

الأبْدالُ بِالشّامِ وهم أرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّما ماتَ رَجُلٌ أبْدَلَ اللَّهُ مَكانَهُ رَجُلًا يُسْقى بِهِمُ الغَيْثُ ويُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلى الأعْداءِ ويُصْرَفُ عَنْ أهْلِ الأرْضِ البَلاءُ والغَرَقُ
ابدال شام میں ہیں اور وہ چالیس آدمی ہیں جب بھی ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا اللہ رب العزت اسکی جگہ کسی اور آدمی کو مقرر فرما دے گا

ان کے صدقے سے بارش برسائی جاتی ہے ان کے صدقے سے دشمنوں پر فتح ملتی ہے اور ان کے صدقے سے زمین والے سے بلاؤں اور غرق ہونے سے محفوظ رہتے ہیں

یعنی جن کے صدقے سے یہ کم بخت بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں ان کے سردار معاویہ کو برا کہتے ہیں

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس عظیم زمین کے امیر ہیں
وہ شام جو رومیوں کے قبضے میں تھا اور تمام صحابہ کی طرف سے ایک امیر معاویہ ان کو کافی ہوگئے
سیر اعلام النبلاء میں ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کا رہے تھے ساتھ میں صحابہ کرام علیھم الرضوان کی جماعت تھی تو ملک شام کا ذکر چل پڑا
ایک صاحب فرمانے لگے ہم شام کیسے فتح کریں گے جبکہ شام میں رومی موجود ہیں (روم اس وقت سپر پاور تھا)
اس جماعت میں جناب امیر معاویہ بھی تھے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی آپ نے امیر معاویہ کے کندھے پر وہ لاٹھی مار کر ارشاد فرمایا
يَكْفِيْكُمُ اللهُ بِهَذَا
اللہ رب العزت اس کے ذریعہ سے تمہاری کفایت کرے گا
یعنی معاویہ سپر پاور کو شام نکال دیں گے
اب ہم کہ سکتے ہیں جس شخصیت کے ذریعہ سپر پاور کی پاور آف کی گئی وہ معاویہ ہیں
شام فتح ہوا تو دمشق کے حاکم امیر معاویہ کے بھائی یزید بن ابو سفیان بنائے گئے ان کی وفات کے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر بنے اور رومیوں کی داخلی سازشوں کو ختم فرمایا
یوں امیر معاویہ امیر شام مقرر ہوئے

اللہ کی شان کہ دشمن اپنے تئیں تحقیر کر رہے ہوتے ہیں جبکہ اصل میں ان کی عظمت و شان بیان کر رہے ہوتے ہیں

اس عظیم لقب کو بطور حقارت استعمال کرنا بالکل ویسا ہے جیسا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا

جب عرض کیا گیا
کہ لوگ سیدنا صدیق اکبر اور عمر فاروق رضی اللہ عنھما کو گالیاں بکتے ہیں
فرمایا
وما تعجبون من هذا؟ انقطع عنهم العمل فأحب الله أن لاينقطع عنهم الأجر
(شرح فقہ اکبر)
تمہیں اس بات پر تعجب کیوں ہے؟
ان کا عمل رک گیا تھا تو اللہ رب العزت نے پسند فرمایا ان کا اجر نہ رکے
یعنی لوگ ان پاک نفوس کو گالیاں بکتے ہیں اور ان کے نامہِ اعمال میں ثواب کا اضافہ ہوتا جاتا ہے

ایسے ہی سیدنا امیر معاویہ کو تحقیراً امیر شام کہنے سے ان کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے

اللہ رب العزت کو پسند تھا کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا ہے جس نے میرے انبیاء کرام علیہم السلام کی زمین کی حفاظت کی اس کی نیکیوں کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے
تو دنیاوی کتوں کو کھلا چھوڑ دیا وہ بکتے ہیں اور سیدنا امیر معاویہ کی شان میں تو کچھ فرق نہیں پڑتا مگر نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے
کیونکہ وہ معاویہ ہیں وہ ستارہ جسے دیکھ کر کتے بھونک سکتے ہیں حالانکہ اس کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں
نبح الکلاب لا یضر السحاب
کتوں کا بھونکنا بادلوں کو نقصان نہیں دیتا
امیر معاویہ تو بادلوں سے کہیں زیادہ اوپر ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top