پہلے کے ناصبی اور ان کے ناصبی

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 28

اُس وقت کے ناصبیوں نے کربلاء میں آلِ رسول کو مار کر ختم کرنا چاہا مگر نہیں کر سکے
آج کے ناصبی آلِ رسول کا ذکر ختم کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر سکیں گے

کیونکہ آل رسول
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ
{یا وہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے}
کی تفسیر کے مطابق محسود (جن سے حسد کیا جاتا) ہیں}

کیونکہ آلِ رسول
و رفعنا لک ذکرک
{ہم نے تمہارے لیئے تمہارے ذکر کو بلند کیا}
کے مظاہر ہیں

کیونکہ آلِ رسول
وللآخرۃ خیر لک من الاولی
{تمہاری آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہے}
کے مظاہر ہیں

کیونکہ آلِ رسول
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ
یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نور بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں
کے وارث ہیں کہ امام مہدی جو کہ آلِ رسول ہیں اُن کے آنے سے اتمامِ نور ہوگا}
یہ آلِ رسول سے حسد ہی تو ہے کہ محرم الحرام میں ایسے ایسے اولیاء کرام کا عرس منایا جانے لگا جن کی تعلیمات سے غافل و جاہل ہیں

{ اللہ رب العزت ہر ولی کا با ادب رکھے }
مگر یاد رکھیں ہر ولی کا دن نہیں منایا جاتا نہ منایا جا سکتا ہے
عرس اس ولی کا منایا جاتا ہے جس کی تعلیمات پیشِ نظر ہوں , ان کا سلسلہ چل رہا ہو , صاحبِ سلسلہ ہوں اور سال بھر ان کا ذکرِ خیر ہوتا ہو
مگر صرف بغضِ اھلِ بیت میں محرم الحرام میں اولیاء کرام کے ایام نکال لانا تاکہ عوام کی توجہ بٹے یہ ناصیبت ہے

اگرچہ محرم الحرام میں کسی ولی کا عرس منانا حتی کہ شادی کرنا بھی شرعاً منع نہیں ہے

مگر نئے نئے عرس محرم الحرام میں اور ائمہَ سادات کے مقابل کیوں ؟

سو باتوں کی ایک بات ہے 👇
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت ہی خندہ زن
پھونکوں سے چراغ بجھایا نہ جائے گا

ہم سنی ہیں رفض کی نجاست سے پاک ہیں تو ساتھ ہی ناصبیت کی غلاظت سے بھی پاک ہیں

میں وہی قول کرتا ہوں جو امام اھلِ سنت احمد بن حنبل فرماتے تھے
لا يقاس بهم أحد
کسی ایک کو اھلِ بیت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا
{مناقب احمد لابن الجوزی}
سبل الھدی و الرشاد میں ایک باب قائم کیا
اس میں مرفوع روایت بیان فرمائی کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
نحن أهل البيت لا يقاس بنا أحد
ہم اھلِ بیت پر کسی ایک کو قیاس نہیں کیا جا سکتا
{سبل الھدی و الرشاد}
فضائلِ فاطمہ میں علامہ عبد الرؤف المناوی سیدہ پاک کے بارے بعض علماء کا قول لکھتے ہیں
لا أعدل ببضعة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا
میں حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے جسم کے ٹکڑے کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتا
{فضائلِ فاطمہ للمناوی}
بس یہی علت آلِ رسول میں ہے کہ وہ جزءِ رسول ہیں , خونِ رسول ہیں تو ان کا چرچا و شہرت مٹانے والا گویا رسول اللہ کی شہرت پہ ہاتھ ڈالنے والا ہے
اُنہیں ہلکا جاننے والا گویا رسول اللہ کی عزت گھٹانے والا ہے
العیاذ باللہ
ہم اھلِ بیت کو الله رب العالمین نے کیا شان دی ہے کہ نماز و درود میں اپنے نانا جان کے ساتھ ہیں
اور اُدھر جنت میں ساتھ ہیں
الله پاک فرماتا ہے
اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ
ہم نے انہیں ان کی اولاد سے ملا دیا

یہاں بھی معیت وہاں بھی معیت ہمی اور کیا چاہئے

ناصبی جلتے بھنتے رہیں , ہمیں کیا پرواہ ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top