مرد کی عقل کہاں ہوتی ہے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 14

••• نام چور متحققین •••

علماء کرام کا فرمان ہے
عقول الرجال تحت اقلامھم

مَردوں کی عقلیں ان کے قلموں کے نیچے ہوتی ہیں

انسان جب مافی الضمیر لکھتا ھے تو غور و فکر کر کے لکھتا ہے
اور یہی اس کی اصل عقل ہوتی ہے
اور اسی سے بندے کی عقل اور عقل کی مقدار کا اندازہ لگایا جاتا ہے

انسان کا بولنا اکثر اوقات جلد بازی سے ہوتا ھے اور بولنے میں فوری جواب دینے یا مباحثے کی وجہ سے عقل کا درست اور بہتر استعمال نہیں کر سکتا

اس لیئے آپ کوئی تحریر کریں یا کمینٹ کریں یا کوئی ری ایکشن دیں اپکی اصل اور کل عقل کا اندازہ ہو جاتا ہے

آپ کے بناوٹی ناموں سے اگرچہ آپ تبرک کی نیت سے رکھیں ان سے آپکی عقل کا اندازہ نہیں بلکہ احساس کمتری اور محرومیت کا اندازہ ہوتا ھے

آپ کا جو نام ماں باپ نے رکھا جس نام سے آپ روزِ محشر پکارے جائیں گے سوشل میڈیا پہ وہی نام لکھیں

ابن حجر لکھنے سے آپ امیر المومنین فی الحدیث نہیں بن جائیں گے
الطحاوی لکھنے سے آپ مجتہد نہیں بن جائیں گے
الشعرانی لکھنے سے آپ تصوف کے امام نہیں بن جائیں گے
ابن الجوزی لکھنے سے آپ دنیا کے بڑے مصنف نہیں بن جائیں گے
السیوطی لکھنے سے آپکو بہتر مرتبہ دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو جائے گا
الرازی لکھنے سے آپ امام المنطق و الفلسفہ نہیں بن جائیں گے

آپ کی عقل کسی کے نام میں نہیں آپ کی تحریر میں چھپی ہوئی ہے
یہ نام چور اصل میں عقل چور بھی ہوتے ہیں اور اور بھلا نام چور سے برا چور کون ہے؟

علماء کرام نے ادبی سرقہ یا علمی سرقہ سخت ناپسند کیا ہے ایسے لوگوں کا خوب رد کیا اور مذمت کی ہے مگر ناموں کے چوروں کا کیا کیا جائے
پچھلے زمانے میں ایسے ہی نام چور اکابر ائمہ و محدثین کے ہمنام ہونے کی وجہ سے سند میں اختلاط کر دیتے تھے
تاکہ بعد والے کو لگے کہ اصل محدث نے یہ روایت کی ہے جبکہ یہ نقلی محدث ہوتے تھے

ان سے کچھ کہا جائے تو ڈھیٹ بن کر صاف کہ دیتے ہیں بطور تبرک نام رکھا ہے یا بطور محبت رکھا ھے
اور پھر یہ ایسے بدتمییز و بد تہذیب ہوتے ہیں کہ چار حرف پڑھ کے چاروں ائمہ شریعت و طریقت کو عامی سمجھ لیتے ہیں
ایسے چار حرف پڑھنے والوں پر چار حرف
اللہ ہی ایسے چوری کے تبرک سے بچائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top