طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 5
جب ابو الفضل احمد بن محمد المیدانی نے الجامع فی الامثال کتاب لکھی تو وہ ایسے اسلوب و تحقیق پر مشتمل تھی اس سے پہلے کبھی کوئی کتاب ایسی نہ ہوئی تھی
المیدانی بہت بڑے ادیب تھے حتی کہ کہا گیا اگر ذہانت و شہامت و فضل کی کوئی صورت ہوتی تو وہ المیدانی کی صورت میں ہوتے
اس کتاب {الجامع فی الامثال} کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا
عربی علوم کے ماہر زمخشری نے جب یہ کتاب دیکھی تو حسد میں مبتلاء ہو گیا اور کتاب میں جہاں مصنف کا نام المیدانی لکھا تھا وہاں النمیدانی لکھ دیا
جس کا معنی فارسی میں بنتا تھا نہ جاننے والا
جب المیدانی کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو انہوں نے زمخشری کی کتاب اٹھائی اور زمخشری میں میم کو نون سے بدل دیا تو یہ زنخشری ہوگیا جس کا معنی بنتا تھا اپنی بیوی بیچنے والا
{معجم الادباء للحموی }
زمخشری معتزلی تھا
علومِ عربیہ میں حجت تھا مگر علومِ عقائد میں حجت نہیں تھا
مفتاح السعادہ میں طاش کبری نے لکھا ہے
زمخشری لفظ میں میم کو نون سے بدلنے سے زنخشری بنتا ہے اس کا معنی حقیقت میں جو بنتا ہے وہ ہے اپنی تھوڑی پر پاخانہ کرنے والا جبکہ زنش خری لکھا جائے تو معنی بنتا ہے اپنی بیوی کو فروخت کرنے والا یعنی دیوث و بے حیاء
بہر حال حسد علماء کے مابین علم و تقوی کی روح مار دینے والا زہر ہے اور یہ ہر دور کے علماء کے مابین رہا ہے
اسی وجہ سے محدثین نے اصول وضع کیا کہ ہم عصر علماء پر جرح قبول نہیں ہے
شیطان چار گدھے لے جا رہا تھا جن پر لدے سامان سے مخلوق کو گمراہ کرتا ہے اسے وہ اپنا سامانِ تجارت کہتا تھا
ایک گدھے پر ظلم تھا
یہ بادشاہ خریدتے ہیں
دوسرے پر حسد تھا
یہ علماء خریدتے ہیں
تیسرے پر خیانت تھی
یہ تاجر خریدتے ہیں
چوتھے پر مکر تھا
یہ خواتین خریدتی ہیں
علماء کے درمیان ایک مقولہ معروف ہے
المعاصرة سبب للمنافرة
ہم زمانہ ہونا باہم دوری کا سبب ہے
آپ کا ہم سبق آپ سے آگے بڑھ جائے تو دل تنگ ہوتا ہے اور یہی حسد کی ابتداء ہے
اسی وجہ سے محدثین نے معاصر کی اپنے ہم زمانہ پر جرح قبول نہیں کی ہے
بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ہم عصر باہم ادب و محبت سے پیش آتے ہوں
خصوصاً جب ایک ہی شعبہ میں ہوں ایک ہی فن میں مشہور ہوں تب تو باہمی رقابت زیادہ ہو جاتی ہے
مثلاً ایک عالم آپ کے دور کا ہے تو آپ اسے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے مگر اس عالم سے کم علم کا عالم سو سال پہلے گزرا تو آپ اسے دلیل و حجت بنا لیتے ہیں
اپنے وقت کے عالم کو ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے
اور جو آپ کے درمیان ہے آپ کو میسر ہے اسے ایک عام بندہ سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
