طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 4
دیوانِ حماسہ و متنبی کی اہمیت کو سمجھیں
ما عادَ لي بمُطارِد الصَّيد حاجةٌ
إلَّا غَزال صَادني قبلَ أصيدهُ
مجھے ہرن کے شکار کی حاجت باقی نہیں رہی کیونکہ میں ہرن کا شکار کروں اس سے پہلے اس نے میرا شکار کر لیا
آپ کو شعر سمجھ آیا ؟
درس نظامی میں دیوانِ حماسہ و متنبی و مقامات حریری کو مشکل سمجھا جاتا ہے
مگر یقین کریں
*یہ کتابیں ذہن کی گرہیں یوں *کھولتی ہیں کہ بس*
لہذا دل لگا کر پڑھا کریں
آپ میں حکمت و دانائی شجاعت و سخاء کرم و مروت غیرت عز و شرف پیدا ہوگی
یہ آٹھ چیزیں ہمارے معاشرے سے مفقود ہیں
اور ان آٹھ چیزوں سے مرکب آدمی اصل رَجُل {مرد} ہوتا ہے
آپ کہ سکتے ہیں ان سات چیزوں کے مجموعے کا نام رجولیت {مردانگی} ہے
فصحاء و ادباءِ عرب کے کلام و واقعات آپ کا اندر بدلتے ہیں
حماسہ آپ میں شجاعت و غیرت پیدا ہوتا ہے
ہجو و مدح سے آپ شرف و عزت سے واقف ہوتے ہیں
دیوانِ متنبی سے آپ کو مروت و حکمت و مروت سمجھ آتی ہے
یہ کتابیں جس طرح پڑھانی چاہیے استاذ ویسے پڑھاتے نہیں ہیں
نئے اور مشکل الفاظ کے معانی یاد کرنے میں طلباء پھنس کے رہ جاتے ہیں
جبکہ مفہوم کی روح یکسر بھلا دی جاتی ہے
کسی بھی قوم کی صفات دیکھنی ہوں تو اس قوم کے ادبی مواد میں ملتی ہیں
عرب دنیا میں افضل قوم ہیں
اس کی وجہ بڑی خاص ہے
جو اوپر بیان کر دی ہے کہ ان میں شجاعت و غیرت سخاء و مروت حکمت و عزت دوسری قوموں سے زیادہ ہے
جو ان کے ادب کو پڑھے سمجھے گا وہ خود میں تبدیلی پائے گا
مگر ہمارے طلباء و فارغین میں ایسا کیوں نہیں ہے ؟
کیونکہ لفظی ترجمہ کی مشکلات میں ہی پھنسے رہتے ہیں
اسی نا سمجھی کہ وجہ سے ان میں اکثر طور پر عز و شرف و مروت نہیں ہے
یہی وجہ ہے کل کلاں کے طالبِ علمی اختلاف پر سیخ پا ہو جاتے ہیں اور سامنے والے کے منصب و مقام کا لحاظ نہیں کرتے
ان میں غیرت و حکمت و مروت کی شدید کمی ہے
جہاں غیرت دکھانی ہوتی ہے وہاں چپ کر جاتے ہیں
اور حکمت سے عاری ہوتے ہیں لہذا بے مروت بن جاتے ہیں
وہ یوں کہ اپنے استاذ کے سوا کسی عالم کو کسی گنتی میں شمار نہیں کرتے
عربی ادب سیکھیں با ادب بن جائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
