انسان اور کتابوں کا ساتھ

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 2

سبق یاد کرنے کا طریقہ

انسان بھی کتابوں کی طرح ہوتا ہے
کبھی غلاف کی طرح دھوکہ دیتا ھے یعنی باہر سے خوبصورت اور اندر سے علوم و فنون سے عاری و خالی
اور کبھی باہر سے سادہ مگر اندر سے علوم و فنون اور حکمتوں کا مرکز
نہ کوئی کتاب ظاہری خوبصورتی اور بہترین ورق دیکھ کر خریدیں
نہ کسی انسان کے ظاہری حلیہ سے اس کے فضل و شرف کا اندازہ لگائیں
کتاب پڑھیں گے تو اپنا آپ دکھائے گی
آدمی کی صحبت میں رہیں گے تو اپنا فضل و کمال دکھائے گا
اھلِ عرب کہتے ہیں
عقول الرجال تحت الاسلام
مَردوں کی عقلیں ان کے قلموں کے نیچے ہوتی ہیں
انسان گفتگو میں عقل کا استعمال کم کرتا ہے کیونکہ فوری جواب کے اور غصے کی وجہ سے عقل مغلوب ہو جاتی ہے
جبکہ قلم سے لکھنا سوچ سمجھ کر ہوتا ہے
اسی وجہ سے قلم انسان کے اندر کا جوہر کاغذ پر اتارتی ہے
اگر آپ نے کسی سے بحث و مباحثہ کرنا ہو تو طے شدہ موضوع کاغذ پر لکھیں اور اس کے متعلق نکات لکھنے بیٹھ جائیں
یوں آپ کی تیاری اچھی ہو جائے گی
میرے والد مرحوم فرماتے تھے
سبق یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ چند بار دہرائیں اور پھر اُسے حافظے سے کاغذ پر لکھ لیں پھر کتاب میں لکھے اصل سبق سے اپنے لکھے کا تقابل کریں جو اغلاط ہوں گی وہ ذہن میں نقش ہو جائیں گی
وجہ وہی ہے کہ لکھنا سوچ سمجھ کر ہوتا ہے جبکہ زبانی سنانے میں گھبراہٹ چھا جاتی ہے
اسی نکتے کے پیشِ نظر اساتذہ کو چاہئے جن طلباء میں خود اعتمادی نہیں ہوتی ان سے سبق زبانی سننے کی بجائے لکھوا لیا کریں
بہر حال کتابوں کی صحبت میں رہنے والا کتابی بن جاتا ہے
کتابوں کی صحبت اور کتابیوں کی صحبت علم میں اضافہ , عقل میں پختگی اور عمل میں وقار پیدا کرتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top